بلاول کو حنا سجے گی ۔۔؟ بشکریہ اردو ٹائمز


 ابن خان
پاکستان کی نوجوان اور شادی شدہ خاتون وزیر خارجہ ایک بار پھر خبروں میں ہیں مگر اس بار ان کی سفارتکاری نہیں بلکہ معاشقے کے چرچے ہیں اور وہ بھی کسی اور سے نہیں ملک کی طاقتور شخصیت صدر زرداری کے نوجوان بیٹے بلاول بھٹو  زرداری سے۔ اس بات میں کس حد تک سچائی ہے یہ تو ان دونوں اور ان کے قریبی حلقو ں کو ہی معلوم ہو گا مگر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اور ابھی تک کسی جانب سے کوئی تردید نہیں آئی۔
حنا ربانی کھر پنجاب کے ایک جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے چچا غلام مصطفی کھر پنجاب کے گورنر رہ چکے ہیں۔ حنا اپنے حلقے سے دوسری بار منتخب ہوئی ہیں اور دونوں بار وفاقی وزیر بنیں، یہ الگ بات کہ دونوں بار حکومتیں
جو مختلف جماعتوں کی رہیں۔ پہلی بار وہ پرویز مشرف کے دور میں ق لیگی حکومت میں وزیر خزانہ بنیں اور اب پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیرخارجہ۔ اپنی قابلیت کی بناء پر کسی حد تک خود کو بیرونی دنیا میں منوایا بھی۔انیس سو ستتر میں پیدا ہونے والی حنا اپنی عمر کی 35 بہاریں دیکھ چکی ہیں۔ چند برس قبل ان کی ایک بڑے صنعتکار فیروز گلزار سے شادی ہوئی اور اس وقت وہ دو معصوم بچوں کی ماں ہے۔
دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری ہیں جن کی والدہ پاکستان کی سیاست میں ایک معتبر نام تھیں اور اب ان کے والد اس نام کو کسی اور طریقے سے کیش کر کے اپنا نام 'روشن' کر رہے ہیں۔ بلاول انیس سو اٹھاسی میں پیدا ہوئے اور حنا سے عمر میں گیارہ برس چھوٹے ہیں۔ بلاول نے زندگی کا زیادہ تر حصہ ملک سے باہر گزارا۔ اعلی تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور برطانیہ میں ہی رہتے ہیں۔ ماں کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی نے بلاول کو پارٹی کا شریک چیئرمین بنایا اور ان کے والد کو صدارت کے منصب پر بٹھا دیا۔
حنا کے حسن کے چرچے تو کبھی سننے میں نہیں آئے البتہ بھارتی دورے کے دوران میڈیا میں ان کے لباس اور جیولری کی تصاویر کا ذکر خیر ہوا تھا مگر اب کہا جا رہا کہ محترمہ کے اس اسکینڈل نے پاکستان ایوان صدر میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ کون پہلے کس کی محبت میں گرفتار ہوا اور کیسے مگر بنگالی میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق اب دونوں جانب برابر آگ لگی ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں جانب سے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں اٹھائی گئی ہیں اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ دونوں نے بڑوں کو آگا ہ کر دیا ہے۔ حنا اپنی ازدواجی زندگی کو ختم کر کے ایک نئی زندگی شروع کرنے کا بھی فیصلہ کر چکی ہیں اور میگزین کی رپورٹ اس بارے میں بہت واضح دلائل دے رہی ہے۔
 میگزین کی رپورٹ کے مطابق اس قضیے سے پاکستانی ایوانوں میں سخت کشیدگی اور سرد جنگ شروع ہو چکی ہے مگر حنا ربانی کھر اور بلاول زردداری اپنے معاشقے میں مصروف ہیں۔  بنگلہ دیشی جریدے بلیٹنز کے مطابق دونوں ایک دوسرے کو تحائف بھیج رہے ہیں اور عید اور سالگرہ کے مواقع پر ایک دوسرے کو تحائف اور پیغامات بھیج کر تجدید محبت کی گئی ہے۔ صدر زرداری کو ایوان صدر میں حنا ربانی کھر اور بلاول کی ایک رومانوی ملاقات کے دوران اس بات کا علم ہوا کہ دونوں کس حد تک آگے نکل چکے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دونوں کے موبائل فونز کے ریکارڈ سے بھی ثبوت حاصل کئے جو رومانوی گفتگو پر مشتمل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پر صدر زرداری نے مشتعل ہو کر حنا ربانی کھر کو ایوان صدر میں طلب کیا اور انہیں اپنے بیٹے سے دور رہنے کو کہا جس پر حنا ربانی کھرنے بھی غصے کا اظہار کیا اور انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ وہ ان کی ذاتی زندگی سے دور رہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صدر نے فورا ان سے معافی نہ مانگی تو وہ وزارت اور پی پی کو چھوڑ دیں گی۔
دروغ برگردن راوی مگر کہا جا رہا ہے کہ جب یہ بات بلاول کے علم میں آئی تو اس نے بھی پارٹی اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دی جس پر صدر کو اندازہ ہوا کہ معاملہ کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ میگزین کے انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول زرداری نے رواں برس کے آخر میں پارٹی اور ملک چھوڑنے کا پروگرام بنا رکھا ہے اور اسی عرصے میں حنا ربانی کھر کی جانب سے بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان سرد جنگ گہری ہوتی جا رہی ہے اور دوسری جانب حنا ربانی کھر نے بھی اپنے شوہر فیروز گلزار سے طلاق لینے کے لئے بات چیت شروع کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حنا ربانی کھر اپنے شوہر کے دوسری عورتوں سے تعلقات پر دل برداشتہ تھیں اور جیسے ہی بلاول نے انہیں سہارا دیا وہ جھولی میں آ گریں۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں پریمی شادی کر کے سوئیٹزر لینڈ میں مقیم ہونے کا سوچ رہے ہیں۔
میگزین کی رپورٹ درست ہے یا غلط اس کا بھی جلد پتہ چل جائے گا مگر ان حالات میں بلاول کو حنا اتنی آسانی سے اور اس قدر جلد سجے گی جتنا میگزین نے خیال ظاہر کیا ہے، شاید درست نہ ہو۔ پاکستان میں بہت کچھ ممکن ہے مگر ایسی شادی جو دو سیاسی خاندانوں کے افراد کے درمیان ہو، عموما اس کا فیصلہ بڑے ہی کرتے ہیں۔ حنا اور بلاول ابھی تک اپنے سیاسی بڑوں کے سامنے بچے ہی ہیں۔

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

أحدث أقدم