سیاست بچالو یا ریاست بچالوپاکستان بچالویا چند خاندان بچالو اور



لاوے یا نالاوے“.چوراہا حسن نثار
سیاست بچالو یا ریاست بچالوپاکستان بچالویا چند خاندان بچالو اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک محروم اور متوسط طبقات کے نوجوان آگے نہیں آتے کیونکہ مخصوص خاندان بے ایمان ہی نہیں بانجھ اور بنجر بھی ہیں جن کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان ہی نہیں بدترین قحط ہے ورنہ یہ بجو”سیاست“ کے علاوہ بھی کسی نہ کسی شعبہ اور میدان میں بھی تھوڑی بہت کارکردگی تو دکھاتے۔ پاکستان بننے سے عشروں پہلے کا ریکارڈ دیکھیں اور پھر2012ء تک آئیں تو آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ انہوں نے آج تک کسی بھی شعبہ حیات میں ایک بھی جینیئس پیدا نہیں کیا۔ یہ پدرم سلطان بود ٹائپ بود ے، بونے اور بوزنے سوائے الیکشن لڑنے کے اور کسی میدان میں لڑنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔
کوئی غیور اور باشعور پاکستانی مجھے بتائے کہ کیا انہوں نے زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کوئی ڈھنگ کا بچہ اس قوم کو دیا؟ ہرگز نہیں کہ ہر قدآور اور قابل ذکر شخصیت کا تعلق صرف اور صرف محروم اور متوسط طبقات سے ہے یا زیادہ سے زیادہ اپرمڈل کلاس ۔

کس کس میدان کا ذکر کروں؟ کون کون ساشعبہ گنواؤں؟ سوائے سیاست کے یہ نجاست زادے ہر فیلڈ میں صفر ہیں ،یہ نکمے اور ناکارہ لوگ ہیں جو”پدرم سلطان بود“ کے چکر میں پاکستان کے شہریوں کی گردنوں پر سوار مدتوں سے ان کا مقدس خون چوس رہے ہیں۔ ڈریکولا حقیقت ہے یا افسانہ؟ میں نہیں جانتالیکن قسماً عرض کرتا ہوں کہ یہ سب ڈریکولاز ہیں جو ا پنے اپنے انداز میں پاکستانیوں کا خون پی رہے ہیں۔ خدارا سوچو کہ سماج صرف سیاست نہیں اس کی انگنت شاخیں ہوتی ہیں مثلاً سائنس سے لے کر آرٹس اور فائن آرٹس تک ان بے فیض، بنجر اور بانجھ طبقات نے کبھی کوئی قابل ذکر آدمی پیدا نہیں کیا تو اس کا مطلب کیا ہے؟
کیا ان میں کبھی کوئی عالم دین یا صوفی پیدا ہوا؟
کیا انہوں نے کبھی فزکس، کیمسٹری، زولوجی، بوٹنی، جیالوجی، سائیکلوجی، اکنامکس و دیگر لاتعداد علوم میں کوئی نامور بچہ جنا؟ کوئی نامور ڈاکٹر؟ سرجن؟ کوئی سائنٹسٹ؟ یا ماہر تعلیم ان میں سے کسی کے گھر جنا ہو؟ کوئی ا یدھی؟ انصار برنی؟ چھیپا یا ڈاکٹر امجد ثاقب ان کے گھروں میں ا ترا ہو؟ کوئی شاعر کوئی ادیب؟ کوئی مصور، کوئی آرکیٹیکٹ؟ سنگر؟میوزک ڈائریکٹر؟فلم جینیئس ؟مورخ، محقق، جنرل، عزب مآب رستم کیانی یا کارنیلئس جیسا جج؟ کوئی انجینئر ؟ کوئی کھلاڑی؟ کوئی بڑا صحافی ؟ کوئی فریڈم فائیٹر؟ تو پھر اسمبلیوں پر ان کی اجارہ داری کیوں؟
اس عظیم ترین المیہ کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے میں دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ ہم سب بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ چلتا اور بہتا پانی پاک ہوتا ہے جبکہ رکا ہوا پانی سٹراند اور تعفن ہی نہیں لاتعداد خطرناک بیکٹریا یعنی بیماریوں کا گڑھ ہوتا ہے، بہتے دریا اور غلیظ جوہڑ میں یہی فرق ہے اور ایک ایسا ملک و معاشرہ جہاں اقتدار مخصوص خاندانوں تک محدود ہوجائے اک ایسا جو ہڑ بن جاتا ہے جس کا پانی نہ پیا جاسکتا ہے، نہ اس کے پانی سے کھیت سیراب ہوسکتے ہیں کہ زہریلے پانی سے اگائی ہوئی فصل بھی زہریلی ہوگی جبکہ دوسری طرف اگر اقتدار بہتے پانی کی طرح مختلف طبقات میں محو گردش ہو تو اس کے فوائد کا اندازہ لگانے کے لئے سقراط ہونا ضروری نہیں۔ اک اور سامنے کی مثال زمین کی ہے جس پر ہل یا ٹریکٹر اس لئے چلایا جاتا ہے کہ نچلی مٹی اوپر اور اوپر والی نیچے جاسکے کہ اس سے مٹی کی قوت اورزرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک ہی جیسی زمین کے ایک ایکڑ میں ہل چلا کر بیج ڈالیں اور دوسرے ایکڑ پر ویسے ہی بیج بکھیر کر دیکھیں تو نتیجہ چودہ طبق روشن کردے گا۔ ہماری”جمہوری سیاسی زمین“ سے اس لئے کوئی ڈھنگ کی شے برآمد نہیں ہوتی کہ اس کی مٹی اوپر نیچے نہیں ہوتی سو جب تک پاکستان میں”ہیٹھلی“ اوپر نہیں ہوگی، اتھل پتھل نہیں ہوگا آپ ایک ہزار ایک الیکشن کرالیں، اس ملک سے پھٹکار کم نہیں ہوگی اور کان نمک میں سب کچھ نمک میں تبدیل ہوتا چلا جائے گا۔ میں یہی بات مختلف پیرائے میں کئی بار کرچکا ہوں۔ بظاہر یہ پلکوں سے در یار پر دستک دینے والی بات ہے اور یار بھی ایسا جو بھنگ پی کر مدہوش پڑا ہو اور بھنگ بھی اس نے ایسی پی رکھی ہو جسے تانبہ ڈال کر گھوٹا جاتا ہے لیکن کیا کریں؟ کدھر جائیں؟ اس سائنسی اصول پر دھول پھانک رہے ہیں کہ……
ہر اک عمل کا ردعمل ناگزیر ہے“۔
ردعمل “ کب ہوگا؟؟ میں نہیں جانتا اور کچھ جانتا ہوں تو صرف اتنا کہ
مالی دا کم پانی لانا بھر بھر مشکاں لاوے
مالک دا کم پھل پھول لانا، لاوے یا نالاوے
چلتے چلتے ایک بار پھر یہ بھی سن لیں کہ اسلام نظام نہیں اہداف مقرر کرتا ہے اور اسلام میں طاقت اور دولت کے بارے فلسفہ یہ ہے کہ ان دونوں کو انسانی معاشرہ میں اس طرح منصفانہ طور پر گردش کرنا چاہئے جیسے انسانی جسم میں خون سرسے پاؤں تک یکساں طور پر گردش کرتا ہے۔
جب تک یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا یہ”بدن “ اسی طرح گلتا اور سڑتا رہے گا۔
Courtesy: Urdu Reporter
http://www.urdureporter.com
أحدث أقدم