مجھے یہ لکھتے ہوئے انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے نمائندوں کی بے حسی غفلت اور لاپرواہی نے ہمیں ایک انسانی المیے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ایم این اے چترال نے کہا ہے کہ موسم برسات میں چترال میں انسانی المیہ رونما ہونے کا خطرہ ہے۔ انسانی المیہ رونما ہونے کی نوید ہمارے پیارے ایم پی اے سید سردار حسین صاحب نے بھی سنائی ہے۔
لیکن اس متوقع انسانی المیے سے بچنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش اب تک نہیں کی گئی ہے ایم این اے ایم پی اے صاحبان ڈسٹرکٹ ناظم ڈی سی چترال سمیت تمام ذمہ داران کو خدشہ ہے کہ انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر سب کے سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس انسانی المیے کے مناظر دیکھنے کے لئے شدت سے منتظر ہیں ۔
اب انسانی المیہ ہے کیا چیز بظاہر یہ ایک سادہ اور آسان لفظ بہت ہی آسانی اور روانی سے بولا جاتا ہے لیکن جب یہ المیہ رونما ہو جائے تو قیامت سے کم نہیں ہوتا نمائندوں نے تو اپنی ناکامی کا اعلان کردیا کہ ہماری کارکردگی انسانی المیے کی صورت میں سامنے آسکتی ہے اللہ پاک وطن عزیز کو اور اہلیاں چترال کو کسی بھی مصیبت اور آزمائش سے محفوظ رکھے لیکن ہمارے نمائندوں نے ہماری تباہی کا سامان کر لیا ہے ۔
کوراغ کے مقام پر دریا کے بہاؤ میں مزید اضافے کی صورت میں روڈ مکمل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے اپر چترال یعنی 50 فیصد چترال کو اشیائے خوردونوش اور ضروریات زندگی کی ترسیل بند ہو جائیگی جبکہ علاقے میں پہلے سے ہی روڈ اور پل خراب ہونے کی وجہ سے ان چیزوں کا خاطر خواہ اسٹاک نہیں ہے یہاں تک کہ گوداموں میں بھی ابھی تک غلہ نہیں پہنچ پایا ہے ایسی صورت میں اگر راستہ بند ہوجائے تو یہاں کے لوگوں تک کھانے پینے کی اشیا پہنچانا ایک بہت بڑا چیلینج ہوگا جوکہ ہمارے موجودہ ممبران کے بس کی بات نہیں اب وقت بہت تھوڑا ہے نمائندوں کو چاہئے کہ کم از کم کوراغ کے مقام پر سڑک کو بحال رکھنے کے لئے کوئی اقدام کرے اور عوام کو بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور نمائندوں پر زور دینا چاہیے تاکہ کسی بھی مشکل وقت سے بچنا ممکن ہوسکے۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.