سکول کی ننھی بچی کو سزا دینے والی استانی معطل، واقعے کی انکوائری شروع کردی گئی: پڑھیں

چترال ( نمائندہ ٹائمزآف چترال 13 نومبر 2017) گزشہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی معصوم بچی یوسرا عنایت ولد عنایت الرحمٰن کی تصویر آپ نے دیکھی اور خبر پڑھی ہی ہوگی۔ مذکورہ بچی کو سکول ٹیچر سکول میں دوران تدریس اپنی بچی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے دی تھی۔ اور بچی کی دیکھ بھال کے دوران ٹیچر کی بچی غلطی سے جھولے سے گرگئی تھی۔ جس کے بعد ٹیچر اپنی خود ساختہ پاور اور اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بچی کو تشدد نشانہ بنایا تھا بات یہیں ختم نہیں ہوئی تھی۔ ٹیچر بچی کو سکول سے بھی نکال کر اس کی کیرئیر سے کھل لیا تھا۔ میڈیا اور سوشل کی طاقت کا اندازہ شاید مذکورہ ٹیچر کونہ تھا۔



مذکورہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ آفیسر (فیمیل) نے گورنمنٹ پرائمری سکول شغور لوٹکوہ کی مذکورہ استانی مسماہ راضیہ بی بی کو فوری ملازمت سے معطل کردیا۔ ڈی ای او (فیمیل) مسز حلیمہ بی بی کے دفتر سے جاری آفیسر آرڈر کے مطابق ڈپٹی کمشنرچترال کی ہدایت کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی بچی کو دی جانے والی خود ساختہ سزا کی پاداش میں مسمات راضیہ بی بی (بی 12) جی پی ایس شغور کو فوری طور پر ملازمت سے معطل کردیا گیا۔ جس کے خلاف انکوائری بھی شروع کردی گئی ہے۔ 

ضلعی ایجوکیشن آفیسر کے دفتر سے جاری نوٹیفیکشن کا عکس


Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

أحدث أقدم