لندن (ٹائمزآف چترال نیوز ڈیسک) برطانوی لیبر منسٹر کارل سارجنٹ پر الزام تھا کہ وہ خواتین کا ہراسان کرتے ہیں۔ یہ محض الزام تھا یا کہ اس میں کوئی حقیقت بھی تھی تاہم تحقیقات ہورہی تھیں اور تحقیقات ہونے تک وزیر کارل کو برطرف کردیا گیا تھا۔49 سالہ کارل سارجنٹ یہ شرمندگی برداشت نہ کرسکے اور شرمندگی محسوس کرتے ہوئے خودکشی کر لی، برطانوی اراکین پارلیمینٹ کا خواتین کو ہراساں کرنے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کے رکن " کارل سارجنٹ " نے خود کشی کر لی۔
کارل کے خاندان کا کہنا ہے کہ کارل کی موت سے ہمارا جو نقصان ہوا ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتا ہے، کارل نے ہمیں جوڑے رکھا تھا۔ کارل کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’کارل پیار کرنے والا شوہر، شفقت بھرا باپ پرخلوص دوست تھا۔‘‘
کارل شادی شدہ اور 2 بچوں کا باپ تھا۔ ان کی خود کشی پر سیاستدانوں نے بھی دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی وزیر نے شرمندگی سے خودکشی کر لی۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ کارل سارجنٹ پر تین خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔ خبر سامنے آنے کے بعد سے رکن پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار تھا۔ انچاس سالہ کارل سارجنٹ کی لاش ان کے گھر سے برآمد کی گئی۔ برطانوی رکن پارلمینٹ جیریمی کوربن کو واقعے کی خبر ہوئی تو انہوں نے بھی حیرانی اور افسوس کا اظہار کیا۔
إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.