کابل (ویب ڈیسک) افغان دارالحکومت، کابل میں اہل تشیع کے ایک ثقافتی مرکز پر حملے میں 41 افراد جان بحق ہوگئے جبکہ 84 زخمی ہیں، جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جو زور دار بارودی دھماکے میں جھلس گئے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے قبول کر لی ہے۔
آئی ایس سے منسلک نیو ایجنسی نے کہا کہ حملے میں 3 بم استعمال ہوئے اور ساتھ ساتھ ایک خود کش بھی استعمال ہوا ہے۔ خود کش نے مرکز میں داخل ہوکر اپنے آپ کو اڑا لیا۔ مرکز میں لوگ 1979 سویت یونین کی جانب سے افغانستان پر چڑھائی کی یاد میں پروگرام کررہے تھے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نجیب دانش کا کہنا ہے کہ اندر حملے سے قبل نا معلوم تعداد میں خودکش حملہ آوروں نے مرکز کے باہر اپنے آپ کو اڑا لیا۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.