چھ (6) ارب ڈالرز کا جرمانہ معاہدہ کرنے والوں سے وصول کیا جائے: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت
- یہ وقت معاہدہ کرنے کے ذمہ داروں سے ہمدردی یا ان کی پشت پناہی کرنے کا نہیں، نہ ہی فیصلے پر رویا پیٹا جائے
- اس موقع پر ہی ہم مصلحت کا شکار ہو گئے تو مورخ ہمیں بھی قصور وار قرار دے گا
- کرپشن کیسز کا انجام افسوسناک ہے کہ ملک کے ہاتھ کچھ نہیں آرہا ور لوٹی گئی دولت باہر ویسے ہی پڑی ہے
- آہنی عزم کیا جائے تا کہ کوئی بھی سربراہ حکومت کسی سے معاہدہ کرے تو ملک کے مفاد کے خلاف جانے کے لئے دس بار سوچے
- آئی ایم ایف کے پاس جانے سمیت حالیہ اقدامات ملک کو معاشی بدحالی کی طرف لے جانے کے امریکی اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہیں
- ریکو ڈک کیس میں پاکستان پر بھاری مالیت کا جرمانہ عائد ہونے پر پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا رد عمل
کراچی (نیوز ڈیسک) ممتاز ماہر معاشیات اور پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی اکنامکس افیئرزڈویژن کی وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا ہے کہ6 ارب ڈالرز کا جرمانہ معاہدہ کرنے والوں سے وصول کیا جائے.یہ وقت معاہدہ کرنے کے ذمہ داروں سے ہمدردی یا ان کی پشت پناہی کرنے کا نہیں، نہ ہی فیصلے پر رویا پیٹا جائے۔کرپشن کیسز کا انجام افسوسناک ہے کہ ملک کے ہاتھ کچھ نہیں آرہا ور لوٹی گئی دولت باہر ویسے ہی پڑی ہے۔آئی ایم ایف کے پاس جانے سمیت حالیہ اقدامات ملک کو معاشی بدحالی کی طرف لے جانے کے امریکی اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ اپنے رد عمل میں پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے مزید کہا ہے کہ ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالرز کا جرمانہ درحقیقت پاکستان کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں بننے والے اس اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں اور ایسے کئی اقدامات کر کے پاکستان کو معاشی بدحالی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس لے جانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ ایک اور ایسے ہی کیس میں بھی پاکستان پر 3 ارب ڈالر جرمانے کی خبریں آچکی ہیں۔ یہ تمام معاملات وطن عزیز کو ایک بہت بڑی دلدل میں پھنسانے کی سازش ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہی کیا گیا ہے کہ ہماری عدالتوں نے جو کچھ کیا اسی کی نفی کر کے ہمیں معاشی بحران میں پھنسانا شروع کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا کہ اس تمام صورت حال کو وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
وقت آگیا ہے کہ ہم ان حکمرانوں کی پکڑ دھکڑ شروع کریں، ان کے گرد گھیرا تنگ کریں جنہوں نے ان معاہدوں پر دستخط کئے تھے اور معاہدے میں ایسی شرائط ڈالیں جس کے نتیجے میں آج ملک کو اتنا بڑا اور خوفناک نقصان اٹھا نا پڑ رہا ہے۔ کرپشن کیسز بھی جس رفتار سے چل رہے ہیں ان کے نتیجے میں ملک کو کچھ ہاتھ نہیں آرہا ہے بلکہ لوٹی گئے کھربوں روپے کی دولت اسی طرح محفوظ ہاتھوں میں ملک سے باہر پڑی ہے۔ یہ قدم اٹھانے کے لئے ہمیں آہنی عزم کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایک بار آہنی عزم کر لیا تو آئندہ کوئی بھی سربراہ مملکت کسی سے بھی کوئی معاہدہ کرتے وقت دس بار سوچے گا۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے مختلف ممالک اور طاقتور کاروباری اداروں سے ایسے معاہدے کرلئے جس کے نتیجے میں پاکستان کو تو کچھ نہیں ملا، الٹا اربوں ڈالرز کا جرمانہ بھگتنا پڑا لیکن ان طاقتور ملکوں اور کمپنیوں کو سب کچھ مل گیا اور ذاتی طور پر ہمارے ان حکمرانوں کو بھی بہت کچھ مل گیا۔ ہم جب تک یہ بھاری جرمانے ان سابقہ حکمرانوں کو پاس اون نہیں کریں گے ہمارے عوام غربت کی چکی میں بری طرح پستے رہیں گے۔ حکومت ریکوڈک اور دیگر ایسے تمام معاہدے از سر نو دیکھے اور ملک کے مفاد میں فیصلے کرے۔ ریکوڈک کیس میں متعلقہ کمپنی کو 18 سال کا وقت اور 400 اسکوائر یارڈ کی جگہ فراہم کی گئی تھی لیکن کمپنی نے صرف 3 کلومیٹر میں کھدائی کی اور اس کی رپورٹ بھی حکومت کو نہ دی۔ کمپنی کی کارکردگی انتہائی ناقص تھی جس کے نتیجے میں جرمانہ بنتا تو نہیں ہے لیکن اب عدالتی فیصلوں پر رونا پیٹنا بیکار ہے۔ یہ وقت ان معاہدوں کے ذمہ داروں سے ہمدردی یا ان کی پشت پناہی کرنے کا نہیں بلکہ غلط اور ملک کے لئے نقصان دہ معاہدے کرنے والوں کو عبرتناک سزا دینے اور یہ جرمانہ ان سے وصول کرنے کا وقت ہے۔ اگر اس موقع پر بھی ہم نے مصلحت سے کام لیا تو پھر ہم بھی قصوروار ہوں گے اور وقت کا مور خ ہمیں بھی معاف نہیں کرے گا۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.