ایرانی صدر کو اعلی سول ایوارڈ سے نوازا جائے: الطاف شکور

ایرانی صدر کو اعلی سول ایوارڈ سے نوازا جائے: الطاف شکور

 عرب امارات کے حکمرانوں کے بے حسی پر مبنی اقدام نے پاکستانی و کشمیری عوام کو انتہائی مایوس کیا ہے

ایرانی حکومت کا بیان بہادرانہ اور حوصلہ افزاء ہے، کشمیریوں کی نسل کشی نے بھارتی جمہوریت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش کیوں ہیں؟ کیا مسلمانوں کے کوئی بنیادی حقوق نہیں؟



حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے غم و غصے کو محسوس کریں اور مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں
کراچی: پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو مقبوضہ کشمیر میں ان کے سفاک، سنگدل اور ظالمانہ اقدامات کے باوجود متحدہ عرب امارات کی جانب سے سول ایوارڈ سے نواز ے جانے کو بے حسی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ ان کے اس بے شرمانہ اقدام کے جواب میں ان کا تمسخر اڑاتے ہو ئے ایرانی صدر کو اعلی سول ایوارڈ سے نوازا جائے تا کہ بے حس حکمرانوں کے منہ پہ طمانچہ مارا جا سکے۔ ا لطاف شکور نے کہا کہ معصوم کشمیریوں کی حالت زار کے باوجود اس وقت عرب حکمرانوں کی جانب سے اس اقدام نے تمام مسلم امہ خصوصا پاکستانی اور کشمیری مسلمانوں کا دل دکھایا ہے اور انہیں انتہائی مایوس کیاہے۔ جب کہ اس بے حسی اور سنگ دلی پر مشتمل اقدام کے مقابلے میں کشمیر یوں کے حق میں ایرانی حکومت کا بیان نہ صرف بہادرانہ بلکہ انتہائی حوصلہ افزا ء ہے۔ جس کے لئے پاکستانی حکومت کو ایرانی صدرکو فوری طور پر اعلی سول ایوارڈ سے نواز دینا چاہئے۔الطاف شکور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں معصوم کشمیریوں کی نسل کشی نے ایک بار پھر بھارت کے مکروہ چہرے اور نام نہاد جمہوریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے انسانیت کی اس تذلیل،کشمیریوں کے بہیمانہ قتل عام پر خاموشی اور عدم توجہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اس جیسی باقی انسانی حقوق کی تنظیموں سے سوال کیا کہ کیا سارے حقوق غیر مسلم لوگوں کے لئے ہیں؟ کیا مسلمانوں کے لئے کوئی بنیادی انسانی حقوق نہیں ہیں؟ کیا اقوام متحدہ اور دوسری انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کا فرض نہیں ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے بھارتی حکومت اور فوجی ظلم و تشدد، بربریت اور انسانیت سوز سلوک پر آواز اٹھائیں؟ مقبوضہ کشمیر میں تین ہفتوں سے جاری کرفیو کی وجہ سے مظلوم کشمیری عوام خوراک، بچے دودھ اور مریض علاج سے محروم ہو کر دم توڑ رہے ہیں لیکن دنیا کی بڑی طاقتیں کہلانے والے ممالک میں بھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ بھار ت اور بھارتی فوج کے اس انسانیت سوز اور سنگدلانہ ظلم کے خلاف آواز بلند کر سکیں۔ الطاف شکور نے سوال کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا اور تمام مواصلاتی ذرائع ابلاغ پر پابندی کیا اقوام متحدہ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہے؟ اور کیا اس عمل پربھارت سزا کا حقدار نہیں ہے؟ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور ظلم و ستم کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک بھارت کو ایک موثر اور بھرپور جواب نہیں دیا جا سکا جس کی وجہ پاکستان میں مفقود سیاسی اتحاد و استحکام ہے جس کے باعث پاکستان کی آواز بین الاقوامی سطح پر نہیں گونج سکی۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ سیاسی و لسانی اختلافات کو پس پشت ڈال کر باہم پوری قوت سے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں۔ پاکستانی عوام کشمیر کے معاملے پر انتہائی تشویش اور غم وغصے کا شکار ہیں اور اب یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے غم و غصے کو محسوس کر تے ہوئے ساری دنیا کو بتا دیں کہ پاکستانی،کشمیر اور کشمیری عوام کے لئے کس قدر فکرمند ہیں۔ الطاف شکور نے پاکستانی حالات پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمزور معیشت اور سیاسی عدم استحکام کے ساتھ پاکستان زیادہ دیر تک کسی بھی سنگین اور تشویشناک صورتحال کا سامنا نہیں کر سکتا۔ اس انتہائی نازک وقت میں ضرورت ہے کہ ہم اپنی معاشی و سیاسی حالت زار کو مستحکم بنائیں کیوں کہ ا پنے اندرونی معاملات کو بہتر بنائے بغیر ہم علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کبھی بھی کوئی اہم اور موثر حتمی کردار اد ا کرنے کا نہیں سوچ سکتے


أحدث أقدم