اسلام آباد میں کسان ڈے کے موقع پر خصوصی تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی چینی، سری لنکا کے سفیروں کی بھی شرکت ؛ وزیر اعظم کا سوشل میڈیا پر کسانوں کے لئے خاص دن وقف کرنے پر زور
اسلام آباد، 18، دسمبر، 2019۔ فاطمہ گروپ کے زیر اہتمام فاطمہ فرٹیلائزر کے فلیگ شپ برانڈ سرسبز فرٹیلائزر نے پاکستان میں 18 دسمبر کو 'کسان ڈے' منانے کے لئے خصوصی اقدام کا انعقاد کیا۔ اس دن کو منانے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ترقیاتی ممالک کے برعکس پاکستان میں چھوٹے کسانوں کی کاوشوں کو سراہنے کے لئے اس طرح کا کبھی کوئی دن نہیں منایا گیا۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اسکی 60فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے جو مکمل طور پر زراعت پر انحصار کرتی ہے۔
کسان ڈے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں بدھ بتاریخ 18 دسمبر کو ایک خصوصی تقریب کے دوران منایا گیا جس میں حکومت سے اس دن کو تسلیم کرنے اور اسے قومی سطح پر منائے جانے والے خصوصی دنوں میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ اس تقریب میں حکومت اور زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ سطح کی شخصیات نے شرکت کی۔ ان اہم حکومتی شخصیات میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور رکن قومی اسمبلی سید فخر امام قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر پاکستان میں چینی سفیر عزت مآب یاﺅ جینگ اور پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر نوردین محمد شاہید بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ زراعت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی اہم معروف شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں امداد علی نظامانی کا نام سرفہرست ہے جو ایک بڑے کسان بھی ہیں ۔ اس موقع پر سرسبز کی سینئر مینجمنٹ کے حکام نے تمام شرکاءکا اس تاریخ ساز تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کیا ۔ ان میں سرفہرست فاطمہ گروپ کے ڈائریکٹر علی مختار، فاطمہ گروپ کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ و سیلز خرم جاوید مقبول اور فاطمہ گروپ کی ہیڈ آف مارکیٹنگ رابیل سدوزئی شامل ہیں۔
کسانوں کے لئے ایک خاص دن مخصوص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انکی خدمات کا اعتراف کیا جائے اور ملکی معیشت میں انکے اہم کردار کو اجاگر کرنے کے لئے کھیتی باڑی میں حائل مسائل کا جائزہ لیا جائے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سوشل میڈیا پر قوم کو پیغام دیتے ہوئے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ کسانوں کے لئے خاص دن وقف کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس حقیقت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کسان پاکستان کی معاشی ترقی میں بنیادی نوعیت کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کی خدمات کو اجاگر کرنے کیلئے فاطمہ فرٹیلائزرز کی کاوشوں کو سراہا ۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اتفاق کیا کہ پاکستان میں ہر سال کسانوں کا خصوصی دن منایا جانا چاہیئے ۔سرسبز فرٹیلائزر پاکستان کے پسماندہ کسانوں کی خدمات کا اعتراف اور انہیں اہمیت دلانے میں عرصہ دراز سے سرگرم ہے تاکہ بڑھتی ہوئی خوراک کی طلب اور اسکی وجہ سے پیدا ہونے والے فوڈ سیکورٹی کے چیلنجز سے نمٹا جاسکے ۔ سرسبز فرٹیلائزر کی جانب سے پاکستان میں اپنی نوعیت کے اس پہلے اقدام کے ذریعے کسان ڈے منانے سے نہ صرف پاکستان کے کسانوں کی خدمات کو منفرد انداز سے سراہا جاسکے گا بلکہ ملک میں زرعی شعبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔
اس موقع پر فاطمہ گروپ کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ و سیلز خرم جاوید مقبول نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "پاکستان کی معیشت میں کسان ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھتے ہیں اور ملکی زراعت کے شعبے میں ترقی و خوشحالی لانے والی قوت ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں کسانوں کی خدمات کے بغیر پاکستان فوڈ سیکورٹی کے چیلنجز سے نبرد آزما نہیں ہوسکتا۔ ہمیں ان کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی ترقی میں حائل رکاوٹیں ہٹانے کی ضرورت ہے۔ اس دن کو ہر سال ہر شخص کے لئے منایا جانا چاہیئے کیونکہ چھوٹے کسانوں کی ترقی سے ہی ملک کی خوشحالی وابستہ ہے۔"
پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی خوشحالی کے لئے کسانوں پر انحصار کرتا ہے۔ کسانوں کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے اور ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جس کے لئے انکی حوصلہ افزائی اور تعاون کی فراہمی ہی واحد موزوں راستہ ہے ۔ اس اہم مسئلہ پر عام آدمی اور پالیسی سازوں کی توجہ مبذول کرانے کے لئے فاطمہ گروپ ہر دم کوشاں ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود یہاں دہائیوں سے کسانوں کی حوصلہ افزائی اور انکے ساتھ تعاون سے متعلق کوئی نمایاں اقدامات نظر نہیں آئے۔ اس کے برعکس دنیا کے مختلف ممالک میں کسانوں کے اہم کردار کو سراہنے کے لئے خصوصی دن مخصوص کئے جاتے ہیں۔ تاہم فاطمہ گروپ نے سلام کسان اقدام کے ذریعہ قائدانہ کردار کے ساتھ پہل کردی ہے اور وہ پاکستان میں قدیم زرعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کام کررہا ہے۔ اس ضمن میں ٹیکنالوجیز، نئی جدت انگیز مصنوعات اور خدمات متعارف
کرانے کے ذریعے کسانوں کو درپیش چیلنجز پر قابو پاکر انکی ترقی کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔ یہ مہم ملتان، حیدرآباد اور سیالکوٹ میں بھرپور جذبے سے جاری رہے گی جبکہ قومی سطح پر چھوٹے کسانوں کے مسائل کے بارے میں آگہی پھیلانے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔
