واٹس ایپ نے کورونا وائرس انفارمیشن مرکز متعارف کرادیا، غلط خبروں کا تدارک اور درست حقائق سامنے لانے کے لئے انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک کو ایک ملین ڈالر کا عطیہ

واٹس ایپ نے کورونا وائرس انفارمیشن مرکز متعارف کرادیا، غلط خبروں کا تدارک اور درست حقائق سامنے لانے کے لئے انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک کو ایک ملین ڈالر کا عطیہ 



کراچی، 18 مارچ، 2020۔ واٹس ایپ نے دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس سے عالمی سطح پر نمٹنے کے لئے آج سے دو اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت اور یو این ڈی پی کے اشتراک سے عالمی سطح پر واٹس ایپ کورونا وائرس انفارمیشن مرکز کا آغاز کرنے کے ساتھ پوئنٹر انسٹی ٹیوٹ کے انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک (آئی ایف سی این) کو ایک ملین ڈالر کا عطیہ بھی دیا ہے۔ 

واٹس ایپ کورونا وائرس انفارمیشن مرکز کا آغاز آج سے اس لنک (whatsapp.com/coronavirus) سے ہوگیا ہے جو صحت کے شعبے میں کام کرنے والے حکام، آگہی فراہم کرنے والے افراد، سماجی رہنما، فلاحی اداروں، مقامی حکومتوں اور ملک میں ان کاروباری اداروں کو سادہ اور قابل عمل رہنمائی فراہم کرے گا جو رابطے کے لئے واٹس ایپ پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ سائٹ دنیا بھر میں اپنے استعمال کرنے والوں کو عام طریقے اور معلومات بھی پیش کرتی ہے تاکہ افواہوں کے پھیلاؤ میں کمی آئے اور وہ صحت سے متعلقہ مصدقہ معلومات کے ساتھ جڑ سکیں۔ 

لوگوں کو الگ سے وقت گزارنے کی ضرورت ہے۔ واٹس ایپ اسی طرح سادہ، معتبر اور محفوظ انداز سے رابطے کی سہولت جاری رکھے گا۔ یہ سفارشات فوری رہنمائی کرتی ہیں کہ کس طرح سے چھوٹے گروپس واٹس ایپ کے فیچرز کا بھرپور استعمال کرسکتے ہیں اور یو این ڈی پی کی جانب سے انہیں فیچرز فراہم کئے جائیں گے جو مقامی سطح پر کام میں تعاون کررہے ہیں۔ مزید یہ کہ، واٹس ایپ دنیا بھر میں لوگوں کے براہ راست استعمال کے لئے یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ میسجنگ ہاٹ لائنز کی فراہمی پر کام کررہا ہے۔ یہ ہاٹ لائنز واٹس ایپ کورونا وائرس انفارمیشن مرکز پر موجود ہونگی۔  

اب تک واٹس ایپ اپنے صارفین کو درست معلومات کی فراہمی کے لئے مختلف ممالک میں قومی صحت کی وزارتوں اور فلاحی اداروں کے ساتھ کام کرچکا ہے، ان ممالک میں سنگاپور، اسرائیل، جنوبی افریقہ، برازیل اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ جیسا کہ کاوشیں جاری ہیں، یہ مرکز تازہ ترین معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ 

واٹس ایپ کی جانب سے آئی ایف سی این کو ایک ملین گرانٹ کورونا وائرس سے متعلق حقائق کی جانچ پڑتال میں معاونت کرے گی۔ اس عمل میں 45 ممالک کے 100 سے زائد ادارے شامل ہیں۔ گزشتہ سال واٹس ایپ نے ایک درجن سے زائد حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ وہ کراؤڈ سورس کرسکیں اور واٹس ایپ یا ایس ایم ایس سمیت مختلف میسجنگ سروسز پر گردش کرنے والی افواہوں کو رپورٹ کرسکیں۔ یہ گرانٹ واٹس ایپ بزنس بشمول واٹس ایپ بزنس اے پی آئی میں موجود جدید ترین فیچرز کے استعمال کی تربیت میں معاونت کرے گی۔ آئی ایف سی این سے سندیافتہ حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے اداروں میں وسعت لانے سے مقامی آبادی باخبر ہوگی اور ممکنہ نقصان دہ افواہوں کا تدارک کیا جاسکے گا۔ 


واٹس ایپ کے ہیڈ ول کیتھکارٹ نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ اس بحران میں ہمارے صارفین پہلے کے مقابلے میں واٹس ایپ پر زیادہ رسائی حاصل کررہے ہیں، چاہے دوستوں اور اپنے پیاروں سے رابطہ ہو، ڈاکٹرز کا مریضوں سے رابطہ ہو، یا اساتذہ کا طالب علموں سے رابطہ ہو۔ ہماری خواہش تھی کہ ایک ذریعہ فراہم کیا جائے تاکہ اس وقت انہیں ایک جگہ جڑنے میں مدد مل سکے۔" 

انہوں نے کہا، "ہمیں پوئنٹر انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ اشتراک پر خوشی ہے جس کے ذریعے واٹس ایپ پر حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے اداروں کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی اور افواہوں کی حقیقت تک پہنچ کر لوگوں کی جان بچانے کے کام میں تعاون کیا جاسکے گا۔ ہم واٹس ایپ میں تازہ ترین اور درست معلومات کی فراہمی کے لئے دنیا بھر میں مختلف ممالک کے محکمہ صحت کے ساتھ براہ راست کام کرنے کا عمل جاری رکھیں گے۔ " 

آئی ایف سی این کے ڈائریکٹر بیبارس اورسک نے کہا، "لوگوں کی بڑی تعداد تک رسائی بڑھانے کے لئے واٹس ایپ کے بروقت عطیہ سے کورونا وائرس فیکٹس الائنس کی جانب سے حقائق کی جانچ پڑتال میں مدد ملے گی اور اسکے نتیجے میں معلومات کے گہرے سمندر سے لوگوں کو موزوں معلومات نکالنے میں مدد ملے گی۔" 

انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک واٹس ایپ پر مختلف فارمیٹس میں صحت سے متعلقہ افواہوں کے پھیلاؤ کے طریقوں سے آگہی حاصل کرنے کے لئے بھی پرامید ہے اور حقائق کی جانچ پڑتال کے لئے دستیاب ٹولز سے  میسجنگ ایپلی کیشن پر غلط اطلاعات کی شناخت اور انکا تدارک کیا جائے گا۔ 

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر ایچم اسٹینر نے کہا، "دنیا بھر میں مقامی سطح پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لانے سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کرنا بین الاقوامی برادری کی کاوشوں کا اہم کام ہے۔ واٹس ایپ جیسے نجی شعبے کے کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کی بدولت عالمی ادارہ صحت سے بروقت اور اہم معلومات کے حصول میں مدد ملے گی اور دنیا بھر میں محکمہ صحت کے مقامی حکام اربوں افراد تک بروقت اہم معلومات پہنچا سکیں گے۔ "



Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

أحدث أقدم