پاکستان مسلم لیگ چترال کے رہنماوں نے وزیر اعظم کی طرف کرونا وائرس کے متاثرین کیلئے تین ہزار روپے امداد کے اعلان کو مذاق قرار
چترال ( محکم الدین ) پاکستان مسلم لیگ چترال کے رہنماوں محمد کوثر ایڈوکیٹ صدر مسلم لیگ ن سب ڈویژن چترال ، عبدالولی ایڈوکیٹ امیدوار پی کے ون چترال ، ساجداللہ ایڈوکیٹ ایڈ یشنل جنرل سیکرٹری و ممبر صوبائی بار کونسل ، خورشید حسین مغل صدر ڈسٹرکٹ بار و ممبر صوبائی بار کونسل اور نیاز اےنیازی ایڈوکیٹ رہنما مسلم لیگ ن چترال نے وزیر اعظم کی طرف کرونا وائرس کے متاثرین کیلئے تین ہزار روپے کے اعلان کو مذاق قرار دیتے ہوئے ما ہانہ بیس ہزار روپے کے حساب سے تین مہینوں کیلئے ساٹھ ہزار روپے فوری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ چترال پریس کلب میں بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ کرونا وائرس کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے والوں ، وکلاء، صحافی ، تاجر ، پرائیویٹ سکولز اساتذہ اور ڈرائیور سب متاثر ہو چکے ہیں ۔ اور ان کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ جنہیں حکومت کی طرف سے مکمل سپورٹ کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا ۔ کہ 2015 کے سیلاب اور زلزلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف چترال کے گھر گھر میں متاثرین میں لاکھوں روپے تقسیم کئے ۔ جس کی بدولت متاثرین اپنے پاوں کھڑے ہونے کے قابل ہوئے ۔ آج بھی کرونا وائرس متاثرین کو ایسی ہی امداد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ۔ کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بجلی بلز، ترسیلات کے بلز اور بینک کے قرضے معاف کئے جائیں ۔ تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے ۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اعلان کردہ گیس پلانٹ اور کلاش ویلیز روڈ، گرم چشمہ روڈ پر کام کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مسلم لیگ کے رہنماوں نے ٹائیگر فورس کے نام پر من پسند افراد کو نوازنے کی کوششوں کی پر زور مذمت کی ۔ اور اسے حکومتی خزانے کو ہتھیانے کی سازش قراردیا ۔انہوں نے منتخب نمایندوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا ۔ کہ اخباری بیانات دے کر عوام کی انکھوں میں دھول جھونکنے کی بجائے چترال کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کیلئے حفاظتی کٹس اور دیگر سامان مہیا کریں ۔ حکومت کی طرف سے ہاتھ دھونے اور قرنطینہ میں رہنے کے اعلانات سوا کوئی بہتری کے کام عملی طور پر ہوتے نظر نہیں آتے ۔انہوں نے لواری ٹنل ، شندور اور ارندو کے راستے آنے والے لوگوں کو سختی سے روکنے کا مطالبہ کیا ۔ اور انظامیہ کی طرف سے خود ساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.