چترال ، وادی کیلاش میں سوگ کا سماں، قبیلہ اہم سر پرست سے محروم ہوگیا ، تفصیل پڑھیں
چترال (محکم الدین 13 اپریل 2020 ) کالاش قبیلے کے ایک بزرگ کی وفات نے قبیلے کو دوہرے سوگ سے دوچار کر دیا ہے ۔ ایک طرف قبیلہ اپنے ایک سرپرست سے محروم ہو گیا ہے ۔ تو دوسری طرف کرونا وائرس سے بچنے کیلئے حکومتی سطح پر دیے جانے والے ہدایات و احکامات کی وجہ سے اُن کی آخری رسومات کی آدائیگی شایان شان طریقے سے انجام دینے میں مشکل پیش آگئی ہے ۔ جس میں عام طور پر تینوں کالاش ویلیز کے افراد جمع ہو کرتین دن رسوم کی انجام دہی کے ساتھ میت کو سپرد خا ک کرتے ہیں ۔ یہ معروف انجہانی شخصیت ایوب کالاش ہیں جو گذشتہ روز ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں وفات پاگئے ہیں ۔
انجہانی قبیلے کے نوجوان سیاسی اور سماجی شخصیات وزیر کالاش اور نذرگئے کالاش کے والد اور چترال میوزیم کے خاتون انچارج آفیسر سید گل کالاش کے دادا تھے ۔ اُنہوں نے اپنے قبیلے میں سب سے طویل عمر پائی ۔ اور معلومات کے مطابق اُن کی عمر ایک سو پانچ سال تھی ۔ اُن کی میت کو آبائی گاءوں بمبوریت انیژ پہنچا کر جشٹکان میں رکھا گیا ہے ۔ جہاں اُس کے قریب ترین رشتے دار اُس کی آخری رسومات میں شریک ہیں ۔ جو ڈھول بجا کر اُن کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ۔ اور اُن کی شاندار خدمات کا تذکرہ کیا جارہا ہے ۔ میت کے قریب کھڑی اور بیٹھی ہوئی خواتین ورثا بیٹے بیٹیاں انتہائی انہماک سے یہ داستانیں سن رہی ہیں ۔ اور وقفے وقفے سے کھبی آنسو بہاتی ہیں ۔ پھر ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ماتمی رقص شروع کرتی ہیں ۔ کالاش قبیلے میں فوت شدہ کے قریبی رشتے دار خواتین کی شناخت بہت آسان ہے ۔ جو سوگ کے دوران سر پر روایتی ٹوپی (کوپیسی )نہیں پہنتیں ۔ سمجھ لو کہ وہ اُس کی بہت قریبی وارث ہے ۔ ایسی ہی انجہانی کی پوتی سید گل کالاش اور دیگر خواتین ہیں ۔ جنہوں نے سوگ کی وجہ سے ٹوپی اُتار دی ہے ۔ سید گُل کالاش جتنی اپنے دادا کی وفات پر صدمے کا اظہار کر رہی ہیں ۔ اُس سے زیادہ اُنہیں اس بات پر افسوس ہے ۔ کہ باوجود مالی استطاعت کے وہ اپنے دادا کیلئے تین دن کا سوگ رسم کے مطابق منانے سے قاصر ہیں ۔ جبکہ انہوں نے دادا کی وفات پر قبیلے کے لوگوں کو روایتی ضیافت دینے کیلئے پہلے سے ہی انتظامات کر لئے تھے ۔ مگر اب کرونا وائرس کے خوف سے زیادہ لوگوں کا اجتماع خطرے سے خالی نہیں ۔ اس لئے اس رسم کو مختصر کیا جا رہا ہے ۔ تاکہ کسی اور نقصان سے واسطہ نہ پڑے ۔
اُنہیں اس بات پر بہت افسوس ہے ۔ کہ اللہ نے اُنہیں بہت کچھ دیا ہے ۔ لیکن رواج کے مطابق دیگر وادیوں میں رہائش پذیر قبیلے کے لوگوں کو کرونا وائرس سے تحفظ کی خاطر آخری رسومات میں شرکت کی دعوت نہیں دے سکے ۔ سید گل کے والد وزیر کالاش کا کہنا ہے ۔ کہ وہ اپنے انجہانی والد کی آخری رسومات کی آدائیگی اور ضیافت کیلئے کم از کم ایک سو بکرے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ لیکن موجودہ وقت میں کم سے کم اجتماع کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے باوجود خواہش کے رسم ادا نہیں کر سکتا ۔ انجہانی ایوب کالاش کو آج اُن کے آبائی قبرستان انیژ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ انجہانی کو سپرد خاک کرنے کے وقت بندوقوں سے زبردست فائر کئے گئے ۔ اور بعد آزان حاضرین کو مختصر ضیافت دی گئی ۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.