یہ ڈر ہے ٹوٹ نہ جاؤں کہیں کھِچاؤ سے میں

گزر رہا ہوں کسی ہجر کے تناؤ سے میں
یہ ڈر ہے ٹوٹ نہ جاؤں کہیں کھِچاؤ سے میں

یہ سیلِ تشنگی ایسی رَواں ہوئی مجھ میں
اُبھرتا ڈوبتا رہتا ہوں اِس بَہاؤ سے میں

لباسِ زخم مرے جسم پر جچا بھی بہت
ہمیشہ لپٹے رہے گھاؤ مجھ سے،گھاؤ سے میں

فریبِ ذات کا سینے پہ بوجھ ایسا رہا
حصارِ عمر سے نکلا ہوں کس دباؤ سے میں

وہ انہماک تھا آنکھوں میں جسم چھوتے سَمے
دھڑکنا بھول گیا اس قدر لگاؤ سے میں

کسی کے لَمس کو ترسا ہوا پرندہ ہوں
پَلٹ بھی سکتا تھا بس ایک آؤ آؤ سے میں

سفر نکال کوئی ہم قدم، ستارہ شناس
تھکا ہوا ہوں بہت تیرے اس پڑاؤ سے میں

چراغِ بام ، سِتارہ، نہ روشنی انجم
کَشید کر نہ سکا جُگنو بھی اَلاؤ سے میں

آصف انجم




Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

أحدث أقدم