بھارتی حکومت کا اقلیتوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا آغاز کیا ہے، پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی کا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز میں اقلیتوں کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار سے خطاب

بھارتی حکومت کا اقلیتوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا آغاز کیا ہے، پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی کا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز میں اقلیتوں کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار سے خطاب


اسلام آباد (اے پی پی  11 اگست 2020) پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ جس طرح سے پاکستان نے اپنی اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کا نمونہ مرتب کیا ہے دنیا کو اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی اقلیتی دن کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز (پی آئی پی ایس) میں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ اس دن کو منانے کا واحد مقصد پوری دنیا کو اقلیتوں کے حقوق کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے بھارتی اقلیتوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا آغاز کیا ہے اور نسل کشی کے شیطانی منصوبے کے تحت مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہر یار آفریدی نے کہا کہ رواں سال فروری میں ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ہندووں کے ہجوم نے 36 مسلمانوں کو قاتلانہ حملے میں شہید کردیا تھا جبکہ متعدد مساجد کو بھی شہید کردیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندو دہشت گردوں کی عوامی سطح پر حکمران جماعت کے ارکان پارلیمنٹ نے ہندو دہشت گرد گروپ آر ایس ایس کی حمایت کے ساتھ تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بالعموم اقلیتوں اور خاص طور پر کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے بھارتی مظالم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غیرقانونی ہندوستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کی فراہمی کی ذمہ داری کو نبھانا ہوگا۔اب وقت آگیا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا کو کشمیر میں جاری مظالم کی روک تھام کیلئے فوری مداخلت کرنی ہوگی۔ نسل کشی کے منصوبے کے تحت ہندوستان اقلیتوں کو مار رہا ہے اور مسلمان ریاستی دہشت گردی کا ایک خاص ہدف ہیں۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ اقلیتیں بھارتی حکومت کا ہدف ہیں جو سیکولر ہونے کا دعوی کرتی ہے لیکن ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔اگر آج مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو نشانہ صرف مسلمان نہیں بلکہ دلتوں اور عیسائیوں کو بھی منظم طریقے سے ختم کیا جارہا ہے۔ ہندوستانی بیوروکریٹس اور سیاستدان مسلمانوں کے سرعام قتل عام کو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے میں اقوام عالم کی ناکامی کی وجہ سے پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ اگر اقوام متحدہ اور خوشحال دنیا ہندوستان میں کشمیریوں کی منظم خونریزی اور نسلی کشی کو روکنے میں ناکام رہی تو کشمیر ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے جس کے اثرات خطے سے باہر بھی جائیں گے۔اس موقع پر آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری معاشرہ بہت ہی ہمدرد ہے اور آزاد جموں و کشمیر میں اقلیتوں کو پوری مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حکومت فاشزم کا پرچار اور عمل پیرا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان جو اسلام کے نام پر تشکیل دیا گیا تھا ،کے برخلاف ہندوستان کو سیکولرازم کے نام پر بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے ہندوستانی مسلمانوں ، عیسائیوں ، سکھوں اور دلتوں کے خلاف دہشت گردی کا راج پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت کشمیریوں کو مارا گیا ، گرفتار کیا گیا ، انھیں نظربند کیا گیا ہے۔ عالمی برادری کو کشمیریوں کی منظم صفائی کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے ورنہ اگلے دو یا تین سالوں میں کشمیری ہی ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا اس قتل عام میں مداخلت کرنے میں ناکام رہی ہے تو کشمیریوں کی نسل کشی کے لئے دنیا آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ اتنی ہی ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنے کے لئے ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کو کشمیر لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ، عیسائی ، سکھ اور دیگر اقلیتیں کشمیری جمہوریت کا لازمی جزو ہیں۔ 

آزادکشمیر میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے کام کرنے والے سی ڈی آر ایس کے سربراہ اور امریکی شہری ٹوڈ شیہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے میڈیا کی منافقت نے پاکستان کی ایک بہت ہی غلط تصویر کی عکاسی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے پاکستان آیا تو مجھے پاکستان کی ایک منفی تصویر دکھائی گئی۔ لیکن پاکستانیوں نے میرے ساتھیوں اور راہبوں کو دوسرے پاکستانیوں کے مقابلے میں زیادہ وقار اور احترام دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں اقلیتوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ ٹوڈ شیہ نے کہا کہ یہ قابل افسوس بات ہے کہ سرحد پار سے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان اور خطے کے دوسرے ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں پاکستان خطے کے ممالک سے بہت آگے ہے۔ پاکستان ایک عظیم قوم ہے اور اسے دنیا کو بہتر سلوک کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان ایک گلدستہ ہے جس میں ہر طرح کے مذہبی رنگ ، پھول اور خوشبو آتی ہے
أحدث أقدم