تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے ; ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہئے پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہئے نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی …
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہئے پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہئے نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی …
فیض کی روح سے معذرت کے ساتھ اے نیازؔ ! چپکے سے نوٹ جب اسے ایک سو کا تھما دیا جسے لوگ کہتے ت…
غزل ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے زندہ رہنے کی ہ…
غزل چراغِ مردہ کو اک بار اور اکساؤں دیا بجھا تو سحر کا فریب کیوں کھاؤں خدا کے کام جو آئے،…