پاکستان
اور مسلم دنیا کے دیگر حصوں میں ان مغربی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے خلاف
ایک بے بسی محسوس کی جاتی ہے جو آزادیِ اظہارِ رائے کا تحفظ بھی کرنا چاہتے ہیں اور
ایسا مواد بھی شائع کرتے ہیں جس سے مسلمانوں میں ناراضگی پھیلے۔
اور
مغربی ممالک کی جانب سے اس اشتعال انگیز مواد کے بارے میں سمجھوتہ کرنے سے انکار بھی
شدت پسندوں کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے جو کہ ان مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
"پاکستان کو شیعہ
مسلمانوں سے ’پاک‘ کرنے کا خواہاں مسلح سنی گروہ سپاہِ صحابہ نے کوئٹہ میں تین سو ہزارہ
افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے اور انہوں نے سرِعام پنجاب کے دیگر علاقوں
میں مظاہروں میں شرکت کی
"
یہ
وضاحت پاکستان کے معاملے میں اور بھی زیادہ ٹھیک بیٹھتی ہے جہاں ریاست تین دیائیوں
سے شدت پسندوں کے خیالات کو اہمیت دے رہی ہے مگر پھر بھی امن و امان کی صورتحال بگڑ
رہی ہے۔
اکیس
ستمبر کو تین پولیس اہلکاروں سمیت اکیس افراد اس وقت ہلاک اور دو سے زیادہ زخمی اس
وقت ہوگئے جب پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بنائی گئی توہین آمیز فلم کے خلاف
پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور پرتشدد واقعات کا سلسلہ چل پڑا۔
اسلام
آباد کے مخصوص سفارتی علاقے کا گھیراؤ کیا گیا اور پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی۔
پاکستان
پیپلز پارٹی کی حکومت نے بظاہر امن و امان قائم رکھنے کی تمام ذمہ داری سے ہاتھ دھو
لیے اور جمعے کے روز تعطیل کے متنازع اعلان کے بعد کوئی سیاسی سمت واضح نہ کرنے کی
وجہ سے مشتعل ہجوم کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ
مظاہرے تیسرا اہم موقع ہیں جب ریاست نے، کسی بھی مدت کے لیے، چند شدت پسندوں کے مطالبات
مان کر نہ صرف ریاست کو کمزور کیا بلکہ ان شدت پسندوں کو بھی مضبوط کیا جو کہ نظام
درہم برہم کرنا چاہتے ہیں۔
جنوری
دو ہزار سات میں فوجی حکمران پرویز مشرف اور ان کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے شدت پسندوں
کو لال مسجر پر قابو پانے دیا۔ بظاہر ان کا یہ اقدام قدامت پسندوں کے اقتدار میں آنے
کے امریکی خوف کو ہوا دینے کے لیے تھا تاکہ امریکہ پاکستانی فوج پر سے افغان طالبان
کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے دباؤ کم کرے۔
سات
ماہ کی ٹال مٹول کے بعد جنرل مشرف نے وہاں فوج بھیجی اور ہزاروں مسلح افراد کے ساتھ
ایک سو دو جانیں لینے والی جھڑپ کے بعد انہیں نکالا گیا۔ جنوری میں چند پولیس والے
ہی یہ کام کر سکتے تھے۔
یہ
ایک اہم موقع اس وجہ سے تھا کیونکہ ہزاروں مسلح افراد پہاڑوں میں نکل گئے اور ریاست
کے مخالف پاکستانی طالبان مضبوط ہونے لگے۔
دو
ہزار گیارہ میں دو اہم سیاسی شخصیات گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز
بھٹی کے قتل کے بعد کسی بھی سیاست دان یا صحافی نے توہینِ مذہب کے قوانین کی مخالفت
یا تبدیلی کی بات نہیں کی ہے۔یہ قوانین غیر مسلموں اور مسلمانوں میں اقلیتی فرقوں کو
نشانہ بناتے ہیں۔
ان
دو افراد کے قتل کے بعد حکومت نے ان قوانین کے لیے پارلیمان میں تجویز شدہ ترامیم ہٹا
دی۔ یہ بھی ایک اہم موقع اس لیے تھا کیونکہ اس موضوع پر بحث کو خاموش کر دیا گیا ہے۔
فلم
کے خلاف گزشتہ ہفتے کے مظاہرے ملک میں کوئی بے ساختہ واقع نہیں ہوئے۔ ان میں پیش پیش
وہ مذہبی سیاسی جماعتیں تھیں جو کہ پارلیمانی نظامِ حکومت کو بھی تسلیم کرتی ہیں اور
ان دہشت گرد گروہوں کو بھی جنہیں حکومت اور اقوام ِ متحدہ نے کلعدم قرار دے دیا ہے۔
لاہور
میں احتجاج کی سربراہی کلعدم تنظیم لشکرِ طیبہ نے کی جس کے مسلح کارکن افغانستان، بھارت
کے زیرِ انتظام کشمیر اور وسطی ایشیا میں لڑ رہے ہیں۔
پاکستان
کو شیعہ مسلمانوں سے ’پاک‘ کرنے کا خواہاں مسلح سنی گروہ سپاہِ صحابہ نے کوئٹہ میں
تین سو ہزارہ افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے اور انہوں نے سرِعام پنجاب
کے دیگر علاقوں میں مظاہروں میں شرکت کی۔
کراچی
اور پشاور میں پاکستانی طالبان احتجاج میں آگے آگے تھے۔ ان شہروں میں ان کے کافی اثاثہ
جات بھی موجود ہیں۔
سندھ،
بلوچستان اور حتیٰ کے خیبر پختونخواہ کے چند حصوں میں مظاہرے نہیں ہوئے کیونکہ مسلح
گروہوں کے مسجدوں اور مدرسوں کا نیٹ ورک یا تو کمزور ہے یا ہے ہی نہیں۔
کہیں
بھی حکومت نے اپنے حامیوں کے لیے کوئی پرامن احتجاج کا انتطام نہیں کیا جو کہ اس فلم
کے خلاف آواز اٹھاتا اور ساتھ ہی حکومت کا وقار بھی برقرار رکھتا۔
کئی
اور مواقعوں پر حکومت اور فوج نے امریکہ اور نیٹو کے پاکستان اور افغانستان کے فیصلوں
پر اثر انداز ہونے کے لیے جان بوجھ کر شدت پسندی کا تاثر پیش کیا ہے۔
جنوری
دو ہزار بارہ میں فوج اور خفیہ اداروں نے مل کر درجنوں اسلامی جماعتوں، مسلح گروہوں
اور ریٹائرڈ جرنیلوں کو دفاعِ پاکستان نامی کونسل کے پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا۔امریکہ
اورنیٹو کے خلاف ملک گیر مظاہرے اس وقت ہوئے جب حکومت نے نیٹب کی افغانستان کے لیے
رسد معطل کر رکھی تھی۔
یہ
رسد سات ماہ تک بند رہی جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں پاکستان کے بارے میں
بے اعتمادی کے علاوہ ملک میں اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
تاہم
جیسے ہی فوج نے امریکہ کے ساتھ سودا کرنے کا فیصلہ کیا اور رسد بحال کرنے لگے تو ایک
دم سے کونسل ختم ہو گئی اور سڑکوں سے بھی غائب ہو گئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے شدت پسندوں پر
اپنے اثر و رسوخ کی امریکہ کے آگے نمائش کی۔
اسی
طرح پاکستان افغان طالبان کو بھی پناہ دیتا ہے حالانکہ ریاست پاکستانی طالبان کے دیگر
گروہوں کے ساتھ لڑتی ہے۔ تو واضح سوال یہ ہے کہ ریاست اب ان خطرات سے کیوں نہیں نمٹ
سکتی جو یہ مسلح گروہ پیش کر رہے ہیں؟
پاکستان
اور مغربی ممالک کے بیچ جاری عزائم کی اس لمبی جنگ میں شدت پسندوں کی باتوں کو وزن
دینا یا انہیں خارجہ پالیسی کے لیے استعمال کرنے سے ملک کی سول سوسائٹی، فوج بیوروکریسی
اور پولیس میں صرف شدت پسندی نے پروان چڑھی ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/2012/09/120927_mortal_gamble_sa.shtml

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.