دل ابھی تک جوان ہے پیارے
دل ابھی تک جوان ہے پیارے
کس مصیبت میں جان ہے پیارے
رات کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی بات
یہ بڑی داستان ہے پیارے
تلخ کردی ہے زندگی جس نے
کتنی میٹھی زبان ہے پیارے
جانے کیا کہہ دیا تھا روز ازل
آج تک امتحان ہے پیارے
کب کیا میں نے عشق کا دعوی
تیرا اپنا گمان ہے پیارے
میں تجھے بے وفا نہیں کہتا
دشمنوں کا بیان ہے پیارے
تیرے کوچے میں ہے سکوں ورنہ
ہر زمین آسمان ہے پیارے
حفیظ جالندھری



Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.