ہجوم میں تھا وہ کھل کر نا رو سکا ہوگا
مگر یقین ہے کے شب بھر نا سو سکا ہوگا
وہ شخص جس کو سمجھنے میں مجھ کو عمر لگی
بچھڑ کے مجھ سے کسی کا نا ہو سکا ہوگا
لزرتے ہاتھ ، شکستہ سی ڈور سانسوں کی
وہ خشک پھول کہاں تک پرو سکا ہوگا ؟
بہت اجاڑ تھے پاتال اسکی آنکھوں کے
وہ آنسوؤں سے نا دامن بھگو سکا ہوگا
میرے لیے وہ قبیلے کو چھوڑ کر آتا
مجھے یقین ہے یہ اس سے نا ہو سکا ہوگا
- See more at: http://www.myvoicetv.com/search/label/Urdu%20Poetry

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.