’جے ماتا کی‘ کہنے سے انکار پر 18 سالہ مدرسہ طالب کے بازو توڑ دیئے گئے

دہلی (ویب ڈیسک 02 اپریل 2016) دہلی کے بیگمپور علاقے میں ہندو انتہا پسندوں نے مدرسے کے ایک 18 سالہ طالب علم پر شدید تشدد کرکے بازو توڑ دیئے۔ اور اس کے دو دوستوں کو بھی شدید زخمی کردیا۔ ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے لڑکوں پر زور کہ وہ ’’ جے ماتا کی ‘‘ کہیں مگر مدرسہ طالب علموں نے انکار کردیا جس پر انہیں تششد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کی رپورٹ کے بعد بھی ابھی تک پولیس نے کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے، پولیس نے واقعے کے 3 روز بعد ایف آئی آر درج کی۔ 

تشدد کا نشانہ بننے والے دلکاش اور اس کے دوست اجمل اور نعیم نے بتایا کہ وہ علاقے کے ایک پارک کے قریب سے چل رہے تھے۔ ہم ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ شدد پسند ہندووں کا گروپ وہاں آیا اور ہمیں ’’جے ماتا کی‘‘ کہنے کو کہا۔ انکار پر ہم پر تشدد کیا اور بری طرح سے مارا پیٹا۔


Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post