صوبائی اسمبلی کی نشت کا خاتمہ: جمعیت علماءاسلام چترال نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کردیا

چترال (ٹائمزآف چترال نیوز) جمعیت علماءاسلام چترال الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے، ضلع چترال کی وسعت کو مد نظر رکهتے ہوئے دو صوبائی سیٹوں کو ہر حال میں بحال رکها جائے۔

جمعیت علماءاسلام چترال کے سکریٹری اطلاعات نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ الیکش کمیشن کے فیصلے کے بعد جے یو آئی چترال کے امیر قاری عبدالرحمن قریشی کے زیرصدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ضلعی جنرل سکریٹری مولانا عبدالشکور، قاری وزیر احمد مفتی شفیق آحمد، (ر) صوبدارمیجرعبدالصمد اور دیگر ساتھیوں نے شرکت کی اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: چترال نے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کھودی، اور کس کس ضلع کی نشت کم کردی گئی: پڑھیں

کہ چترال اب دو ضلعوں میں تقسیم ہوچکا ہے اور چارتحصیلیں بن چکے ہیں اسلئے آبادی کو پیش نظر رکه کر سیٹوں کی تقسیم چترالی عوام سے بڑی زیادتی ہے، پاکستان میں کہیں بهی دو اضلاع کے لئے ایک صوبائی سیٹ نہیں ہے، لہذا یہ چترال کے ساته انتہائی زیادتی ہوگی۔ ہم اس فیصلہ کو چترال کو پتهر کے زمانے کی طرف لیجانے کی ایک سازش سمجهتے ہیں لہذا الیکشن کمیشن اور تمام قومی پارٹیزچترال کو استثنی دیکر دو صوبائی سیٹوں کو بحال رکهے۔

جے یو آئی چترال عنقریب اس حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔




Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

أحدث أقدم