چترال (وقائع نگار) چترال میں خواتین کی خود کشی کے وقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے، گزشتہ روز بھی 2 دلخراش واقعات رونما ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چترال کے تحصیل تورکہو کے گاؤں ورکوپ اور کھوت میں خواتین نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا۔ پہلے واقعے میں ورکوپ کی مسماۃ ابسربی بی دختر شیر عجم نے اپنی زندگی دریائے تورکہو کے سپردکری، متوفی 2 بچوں کی ماں تھیں، ایک اور واقعے میں کھوت کی فریدہ بی بی دختر شیر اعظم گلے میں رسی ڈال کر خود کشی کرلی۔ دونوں وقعات کو دفعہ 144 کے تحت پولیس تفتیش کر رہی ہے۔
خودکشی کے واقعات کو محض ذہنی مریضہ کہہ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے متعلقہ ادارے ان واقعے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ ذہنی مریض یا مریضہ کن وجوہات کی بناء پر یہ لوگ بنتے ہیں۔ تاکہ اس شرح کو کم سے کم کیا جاسکے۔
Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.