ہنسنا بھی ضروری ہے: چند مزے مزے کے #لطیفے

(ایک دوست دوسرے دوست سے) 
’’میں اپنی تنخواہ کا 75 فیصد حصہ غریب افراد
 کی مالی مدد میں لگاتا ہوں‘‘۔ 
دوسرا دوست: ’’اور تمہارے بیوی بچوں کا کیا ہوتا ہے؟‘‘ 
پہلا دوست: ’’وہی تو محلے کے غریب افراد ہیں‘‘۔

______☺_____

بوڑھا مریض: ’’ڈاکٹر صاحب میری داہنی 
ٹانگ میں درد ہے‘‘۔ 
ڈاکٹر: ’’یہ تو بڑھاپے کی وجہ سے ہے‘‘۔ 
مریض: ’’مگر ڈاکٹر صاحب میری دوسری 
ٹانگ بھی تو اسی عمر کی ہے‘‘۔

______☺_____

’’آپ یہ کار دیکھیں‘‘ کاروں کے ڈیلر نے 
ایک گاہک سے کہا 
’’یہ کار پہاڑی پر چڑھ جائے گی اس کا انجن۔‘‘ 
گاہک نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ 
’’نہ بھائی! میرے پاس ایسی ہی ایک کار تھی جو 
بس پر چڑھ گئی تھی۔ کوئی اور دکھاؤ‘‘۔

______☺_____

ایک دفعہ ایک بھکاری نے ملا نصیرالدین کے 
گھر جاکر صدا لگائی تو ملا نصیرالدین باہر نکلے۔ 
بھکاری نے ان سے کہا: ’’آپ کے پڑوسی نے 
مجھے پیٹ بھر کر کھانا دیا ہے آپ بھی خدا 
کے نام پہ کچھ دیجئے‘‘۔ 
ملا نصیرالدین نے جواب دیا: ’’ٹھہرو میں 
تمہیں بدہضمی دور کرنے کی دوا دیتا ہوں‘‘۔
______☺_____

ایک گاؤں کا چوہدری تقریر 
شروع کرتے ہوئے بولا: 
’’آج میری تقریر کا عنوان ہے آگ، دھواں اور پانی‘‘۔ 
سادہ لوح دیہاتی بولا 
’’چوہدری صاحب! صاف صاف کیوں نہیں کہتے 
کہ حقے پر تقریر کرنی ہے‘‘۔

______☺_____

مالک (نوکر سے): ’’میرے دونوں خط لیٹر بکس میں ڈال دیئے تھے نا۔۔۔؟‘‘ 
نوکر: ’’جی ہاں! ڈال تو دیئے تھے مگر پردیس والے خط میں پچاس پیسے کا ٹکٹ لگا ہوا تھا اور آپ کے گاؤں والے خط میں دو روپے کا ٹکٹ لگا ہوا تھا‘‘۔ 
مالک: ’’اوہ! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی‘‘۔ 
نوکر: ’’فکر مت کریں۔ میں نے خطوں کے پتے بدل دیئے تھے‘‘۔



______☺_____


گاہک: ’’مجھے کوئی ایسا کپڑا دکھاؤ جو مضبوط ہو، 
پائیدار ہور اور سستا بھی ہو‘‘۔ 
دکاندار (نوکر سے) ’’انہیں ٹاٹ کا تھان دکھادو‘‘۔








Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

أحدث أقدم