مڈل ایسٹ کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش : امریکی بمبار طیاروں کے اسکواڈرن قطر پہنچ گئے مقصد ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں

مڈل ایسٹ کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش : امریکی بمبار طیاروں کے اسکواڈرن قطر پہنچ گئے مقصد ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں



واشنگٹن (ویب ڈیسک) مڈل ایسٹ کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش ہورہی ہے۔ امریکی بمبار طیاروں کے اسکواڈرن قطر پہنچ گئے مقصد ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں۔ امریکا نے غیر مخصوص ایرانی دھمکیوں کے تناظر میں اپنے بی باون بمبار طیاروں کو خطے میں تعینات کر دیا ہے۔ ان ہوائی جہازوں کا یہ 20 واں اسکواڈرن امریکی ریاست لْوئزیانا کی بارکس ڈیل ایئر فورس بیس سے قطر پہنچا۔ اس سے قبل امریکا اپنا ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی ممکنہ ایرانی اقدامات کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر چکا ہے۔ 

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان بمبار طیاروں کا ایک اسکواڈرن خلیجی ریاست قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ ان جنگی طیاروں کو قطری دارالحکومت دوحہ کے جنوب مغرب میں واقع العدید ایئر بیس پر کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رکھا جا رہا ہے۔ ان ہوائی جہازوں کا یہ 20 واں اسکواڈرن امریکی ریاست لْوئزیانا کی بارکس ڈیل ایئر فورس بیس سے قطر پہنچا۔ 

اس سے قبل امریکا اپنا ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی ممکنہ ایرانی اقدامات کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر چکا ہے۔دریں اثناء مصر کی نہر سویز اتھارٹی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشرقِ اوسط میں طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہام لنکن کو نہر سویز سے گزرنے والے ایرانی بحری جہاز وں کی ’سدِّ راہ‘ اور ان پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا ہے۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ا ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی دھمکیوں اور پریشان کن اشاروں کے ردِعمل میں طیارہ بردار بحری بیڑے کو مشرقِ اوسط میں لنگر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے امریکا یہ بھی ظاہر کردے گا کہ وہ کسی بھی حملے کا تباہ کن طاقت سے جواب دے گا۔

ایران نے امریکا کے طیارہ بردار بحری جہاز کو خطے میں بھیجنے کے اعلان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک پرانی خبر ہے اور اس کو ایک نفسیاتی حربے کے طور پر نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔



Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

أحدث أقدم