چترال باکمال محکمہ لاجواب سروس۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے زیر نگرانی زیر تعمیر پُل میں ناقص میٹرییل استعمال کی جارہی ہے۔ ایس ڈی او نے مقدمہ درج کرنے کیلئے پولیس کو درخواست دی جبکہ ایگزیکٹیو انجنئیر نے ٹھیکدار کی حمایت کی۔
چترال (نامہ نگار) محکمہ مواصلات (کمیونیکیشن اینڈ ورکس) کے سب ڈویژنل آفیسر اور ٹھیکدار میں ٹھن گئی۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ کوغذی کے ایس ایچ او کو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو چترال کے سب ڈویژنل آفیسر عتیق فاروق نے تحریری درخواست دی ہے کہ موری بالا میں C&W کے زیر نگرانی ایک آر سی سی پُل کا ٹھیکہ اسمار ٹھیکدار کو دیا گیا تھا مگر اس نے یہ کام پی ٹی ٹھیکدار عرفان اللہ سکنہ ہری چند غیر قانونی طور پر دیا ہے جو محکمے کے ضوابط کے حلاف ہے اور اس میں کام بھی ناقص ہورہی ہے۔ چونکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا ایس ڈی او غیر مقامی ہے اور اسی وجہ سے وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کررہا ہے کسی کا غیر قانونی حمایت نہیں کرتا مگر ایگزیکٹیو انجنیر مقبول اعظم مقامی ہونے کے ناطے وہ مقامی ٹھیکداروں کے حلاف کھلم کھلا کاروائی نہیں کرسکتا۔
اس معاملے میں بھی ذرائع نے بتایا کہ XEN اپنے محکمے کی بجائے ٹھیکدار کا حمایت کررہا ہے۔ چونکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں ترقیاتی کاموں میں ایگزیکٹیو انجنیر وغیرہ کو گیارہ فی صد تک کمیشن ملتا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ٹھیکدار کو حفہ نہ کرے۔
موجودہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ محکمہ کے SDO نے اس زیر تعمیر پل کا معائنہ کیا جس پر انہوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور غیر قانونی طور پر کام کرنے والے ٹھیکدار سے کام بند کروانا چاہا مگر ٹھیکدار نے ان کو دھمکی دی ہے جس پر ایس ڈی او نے باقاعدہ پولیس تھانہ کوغذی میں تحریری درخواست جمع کیا ہے مگر ذرائع کے مطابق پولیس بھی مقامی ہے اور وہ بھی مذکورہ ٹھیکدار کے حلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی۔
مقامی لوگوں نے تبدیلی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے اور چترال کے چوٹی کی آسامیوں پر کم از کم غیر مقامی افسران تعینات کرے تاکہ کسی کے ساتھ غیر قانونی طو ر پر اقربا ء پروری نہ کرے۔ اور ٹھیکدار سے بھی پوچھ گچ کیا جائے کہ وہ کیوں غیر معیاری میٹیریل استعمال کررہا ہے۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.