چترال، تہرے (میاں بیوی اور پیٹ میں بچے) قتل کے ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کرلیا اور دیگر 3 مجرموں کی بھی شناخت کرلی

چترال، تہرے (میاں بیوی اور پیٹ میں بچے) قتل  کے ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کرلیا اور دیگر 3 مجرموں کی بھی شناخت کرلی 



چترال (ٹائمزآف چترال نیوز) چترال، تہرے قتل کے ملزم نے اعتراف جرم کرلیا اور تمام مجرموں کی بھی شناخت کرلی ہے۔  قتل کے مرکزی ملزم  عطاء الرحمٰن نے مقامی مجسٹریٹ کے سامنے نہ صرف خود تین مرتبہ اقبال جرم کیا بلکہ کے واقعے میں ملوث دیگر مجرموں کی شناخت بھی کرلی۔ اگرچہ ، تمام مشتبہ افراد کو ہفتے کے شروع میں ، چترال پولیس نے پکڑ لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں چترالی میان بیوی، اور پیٹ میں موجود بچے  کو بے دردی سے قتل کرنے والا مجرم دیر کوہستان سے گرفتار، ملزم کو چترال پولیس نے کوہستان سے ڈھونڈ نکالا


وقار احمد اور اس کی حاملہ بیوی کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جب دو ہفتے قبل وہ چترال میں کسی سے مل کر واپس گرم چسمہ آرہے تھے۔ 

ایریا پولیس کے اہلکار وسیم ریاض خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا  کہ اس تہرے قتل کا مرکزی ملز اپر دیر، شیرینگل  سے تعلق رکھنے والا عطا الرحمن ایک پیشہ ور قاتل تھا اور وقار احمد کو قتل کرنے کے لئے بھاگ کر شادی کرنے والی ان کی اہلیہ کے گھر والوں نے اسے ٹاسک دیا تھا۔ کیونکہ لڑکی نے اپنے خاندان کی رضامندی کے بغیر چترال کے وقار احمد سے شادی کی تھی۔

ڈی پی او نے کہا کہ یہ چترال جیسے پرسکون اور پرامن علاقے میں یہ قتل ایک غیر معمولی واقعہ تھا اوریہ واقعہ  پڑوس کی پولیس کے لئے بھی ایک ٹیسٹ کیس تھا، تاہم انہوں نے معاملے کو جلد انجام تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس واقعے میں استعمال ہونے والی کار ، بندوق اور دیگر چیزوں کو برآمد کیا۔ انہوں نے کہا کہ  رحمان نے قتل کا اعتراف کیا اور اپنے ساتھ جرم میں شریک دیگر 3 لوگوں کے نام بھی بتا دیئے۔

دیگر تین ملزمان کا نام خورشید ، حجاز اور حمزہ تھا۔ مجرم باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت کچھ ماہ قبل گرم چسمہ کے علاقے میں رہائش اختیار کی تھی اور متوفی کے گھر والوں سے رابطہ قائم کر رکھا تھا واقعے سے قبل ایک ساتھ گولین گول بھی گئے تھے۔

قتل کے پرائمری مجرم عطا الرحمن کو قتل کے لئے 15 لاکھ روپے ملنے تھے جس میں سے 3 لاکھ اسے ملک چکے تھے پولیس نے ملزم سے 2 لاکھ روپے برآمد کر لئے ہیں۔



Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post