اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کامیابی سے مکمل، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے سپرد
لاہور، 12اکتوبر، 2020۔ سی آر۔ نورنکو (CR-NORINCO) نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کامیابی سے تکمیل کے بعد 9اکتوبر 2020کو پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے سپرد کردیا۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ چین کے ون بیلٹ، ون روڈ اقدام کے سلسلے میں سی پیک کے تحت باضابطہ شروع ہونے والا پہلا اربن ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے اور اسے پاکستان کا پہلا میٹرو ٹرانزٹ منصوبہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس منصوبے کے معاہدے پر اپریل 2015میں چینی صدر ذی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط ہوئے جس سے اسکی دونوں ممالک چین اور پاکستان کیلئے بھرپور اہمیت سامنے آتی ہے۔
سی آ۔ نورنکو دراصل چائنا اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ (سی آر) اور چائنا نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن (نورنکو) کا مشترکہ منصوبہ ہے جس نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی ذمہ داری لی اور اسکے تکنیکی امور کی نگرانی کی۔ اس منصوبے میں انجینئرنگ اور میکنیکل کام چائنا ریلوے ڈیزائن کارپوریشن نے مکمل کئے جبکہ چین کے ایگزم بینک نے نرم شرائط پر قرضہ فراہم کیا۔
اورنج لائن میٹرو ٹرین کی مرکزی لائن 25.58 کلومیٹر طویل ہے جس میں 23.80کلومیٹر ٹریک بالائی سطح پر ہے، جبکہ 1.07کلومیٹر ٹریک زیر زمین تعمیر کیا گیا ہے تاکہ لاہور کے تاریخی مقامات محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ 0.71کلومیٹر ٹریک چڑھائی اترائی کے لئے ہے۔ یہ روٹ 26اسٹیشنزپر مشتمل ہے،جہاں 24 اسٹیشنز پلوں پر جبکہ 2اسٹیشنز انڈرگراؤنڈ واقع ہیں۔ ان کے علاوہ علی ٹاؤن میں جنوب کی جانب اسٹیبلنگ یارڈ اورڈیرہ گجراں اسٹیشن سے متصل شمال میں رولنگ اسٹاک ڈپو قائم ہے۔
دیگر ممالک میں اس طرح کے منصوبوں کے مقابلے میں اورنج لائن میٹرو ٹرین انتہائی کم لاگت کے ساتھ زیادہ بہتر کارکردگی کی حامل ہے۔ یہ پورا منصوبہ جدید ترین چینی معیار، ٹیکنالوجی اور سامان سے آراستہ ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی ضروریات اور چینی معیار کا بہترین امتزاج ہے جس سے چین کے جدید ڈیزائن اور سامان کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
دونوں ممالک کی مشترکہ ٹیموں کی کاوشوں کے ساتھ سی آر۔ نورنکو نے تیزرفتاری اور کامیابی سے یہ منصوبہ مکمل کیا ہے اور اس عبوری عرصے کے دوران 2ہزار پاکستانی اسٹاف کو روزگار اور تربیت فراہم کی۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف سی آر۔ نورنکو نے مقامی سطح پر روزگار میں اضافے اور موثر انداز سے معاشی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کیا، بلکہ مقامی پرائمری اسکول میں قابل قدر عطیات فراہم کرکے فعال انداز سے اپنی سماجی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کرونا کے خلاف جنگ میں سی آر۔ نورنکو کے اس پروجیکٹ میں شامل تمام چینی ارکان نے میو اسپتال میں ماسک عطیہ کئے۔ دونوں ممالک اب روشن مستقبل کے راستے پر گامزن ہوچکے ہیں جس کا اظہار ایک گیت سے بھی کیا گیا۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.