پاکستان میں خواتین کی زیرقیادت کاروبار وں کے لئے فیس بک نے مرکزی بینک اور دیگر اداروں کے اشتراک سے فنانشل ایجوکیشن کا آغاز کردیا
کراچی: فیس بک خواتین کو بااختیار بنانے کے اپنے اقدام شی مینز بزنس (SheMeansBusiness) میں وسعت لارہا ہے تاکہ پاکستان میں خواتین کی زیرقیادت کاروبار میں مالی سہولیات اور خدمات میں اضافہ لایا جائے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور یو ایس ایڈ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ایکٹویٹی (ایس ایم ای اے) کے اشتراک سے اس پروگرام کے نئے حصے بزنس ریزیلینس تھرو فنانشل ایجوکیشن (بی آر ایف ای) کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں خواتین کی زیرقیادت چھوٹے و درمیانی کاروبار (ایس ایم بیز) کے استحکام اور پائیداری میں اضافے کے لئے مالیاتی انتظام کی مہارتوں میں بہتری لانے کے لئے تعاون فراہم کیا جائے۔
اس حوالے سے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں چارج ڈی افیئرز لیزی ویگوئیری اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے سینئر سرکاری حکام، فیس بک، چیمبرز آف کامرس، یو ایس ایڈ، وزارت تجارت اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ کے نمائندوں کے ساتھ بی ار ایف ای پروگرام کا ورچوئل افتتاح کیا۔
فیس بک میں پالیسی پروگرامز اینڈ گورنمنٹ آؤٹ ریچ فار ایشیاء پیسفک کی ڈائریکٹر اور شی مینز بزنس کی گلوبل ہیڈ بیتھ این لم نے اہم خطاب میں فیس بک سے منسلک شی مینز بزنس کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور پاکستان سمیت دیگر ایشیائی پیسفک ممالک میں نئے متعارف کردہ بزنس ریزیلینس تھرو فنانشل ایجوکیشن (بی آر ایف ای) پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نیا پروگرام پاکستان سمیت دنیا کے 21 ممالک میں فعال ہے اور دنیا بھر میں فیس بک اور اسکے پارٹنرز کی جانب سے 10 لاکھ سے زائد خواتین کو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کی جاچکی ہے۔
فیس بک نے یو ایس ایڈ ایس ایم ای اے کے ساتھ بی آر ایف ای پر آزمائشی طور پر اشتراک کیا ہے جس میں شی مینز بزنس کے ڈیجیٹل مارکیٹنگ ٹریننگ پروگرام کی المنائی کو لایا جارہا ہے۔ دو پارٹنرز نے پاکستان میں مئی 2020 سے شی مینز بزنس کا نفاذ کیا ہے تاکہ ملک بھر میں وسیع اقسام کی کاروباری خواتین میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مالیاتی مہارتیں بڑھائی جائیں۔
ایک ویڈیو پیغام میں چارج ڈی افیئرز لیزلی ویگوری نے بتایا کہ امریکی حکومت پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی ترقیاتی کاموں میں خواتین کی معاشی بااختیاری کو اہم ستون قرار دیتی ہے اور اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ خواتین کی بااختیاری سے ہی انتہائی غربت کے خاتمے اور فعال معیشت کی تعمیر میں مدد مل سکتی ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے ملک میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی کے لئے فیس بک اور دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی زیرقیادت چھوٹے و درمیانی کاروبار کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ مہارتوں میں بہتری اور مالیات خدمات کی رسائی کے ذریعے کاروبار میں پائیداری اور استحکام لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایف ای جیسے اقدامات سے پاکستانی خواتین بااختیار ہوں گی اور قوم کی تعمیر کے عمل میں انکے اثرات بڑھیں گے۔
بیتھ این لم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "پاکستان سمیت ہر جگہ خواتین کی زیرقیادت کاروباری پائیداری کے لئے مالی تعلیم انتہائی اہم ہے۔ شی مینز بزنس سے ایپک ریجن میں خواتین کی زیرقیادت کاروبار کے استحکام پر انتہائی توجہ کے ساتھ خواتین کی معاشی ترقی میں معاونت کے لئے فیس بک کے دیرینہ عزم کا اظہار ہوتا ہے۔"
اس پروگرام میں دو پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئے۔ پہلے پینل ڈسکشن میں وزارت کامرس، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، یو ایس ایڈ کے نمائندے اور بی آر ایف ای کے پائلٹ پروگرام سے فارغ التحصیل افراد نے شرکت کی۔ پینل شرکاء نے موجودہ رکاوٹوں پر قابو پانے، خواتین کیلئے مالیاتی خدمات میں بہتری لانے کے آئیڈیاز کے تبادلے اور چیلنجز و مواقع پر خصوصی توجہ کے ساتھ خواتین کی زیرقیادت ایس ایم بیز کے لئے مالیاتی انتظام کی مہارتوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.