ایرکسن اور سام سنگ نے عالمی پیٹنٹ معاہدے پر دستخط کردیئے
• معاہدے میں فائیو جی سمیت سیلولر ٹیکنالوجیز کا عالمی کراس پیٹنٹ لائسنس شامل ہے
• یہ تصفیہ فریقین کے مابین پیٹنٹ سے متعلق تمام جاری قانونی تنازعات کا خاتمہ کرے گا
• 2021 کی دوسری سہ ماہی میں، آئی پی آر کے لائسنسنگ کی آمدنی2 بلین سیک سے 2.5 بلین سیک تک متوقع ہے
کراچی: ایرکسن اور سام سنگ کے مابین عالمی پیٹنٹ لائسنسوں کے سلسلے میں ایک کثیر سالہ معاہدہ طے پاگیا ہے۔ جس میں سیلولر ٹیکنالوجیز سے متعلق پیٹنٹ کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ یہ کراس لائسنس معاہدہ ۱ جنوری 2021سے نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے اور موبائل فون سیٹس کی فروخت کا احاطہ کرتا ہے۔
دونوں کمپنیوں نے موبائل فون کی صنعت کے معیار کو آگے بڑھانے اور صارفین اور کاروباری اداروں کیلئے موبائل فون ٹیکنالوجی کے حوالے سے مسائل کا حل تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے سے دونوں کمپنیوں کے طرف سے امریکہ کے بین الاقوامی تجارتی کمیشن (یو ایس آئی ٹی سی) میں دائر شکایات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ کئی ممالک میں جاری قانونی مقدمات کا خاتمہ بھی ہوجائے گا جو دونوں کمپنیوں کے مضبوط پیٹنٹ کی ترجمانی کرتا ہے۔ دونوں کمپنیوں نے معاہدے کو خفیہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
ایرکسن کے آئی پی آر لائسنس دینے والے محصولات کئی عوامل سے متاثر ہوتے رہیں گے جیسا کے بنیادی طور پر میعاد ختم ہونے والے پیٹنٹ لائسنس معاہدوں کی تجدید، موبائل فون ہینڈ سیٹ مارکیٹ پر جیو پولیٹیکل اثرات، فور جی سے فائیو جی ٹیکنالوجی پر منتقلی اور کرنسی کے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔2021کی دوسری سہ ماہی میں، یکم جنوری2021 سے فروخت پر محیط نیا معاہدہ بھی شامل ہے جو کہ آئی پی آر کے لائسنسنگ کی آمدنی کو2 بلین سیک سے2.5 بلین سیک تک لے جانے پر متوقع ہے.
اس موقع پر ایرکسن کی چیف انٹلیکچول پراپرٹی آفیسر کرسٹینا پیٹرزسن کا کہنا تھا کہ ہمیں سام سنگ کے ساتھ باہمی سود مند معاہدہ کرنے پر خوشی ہے۔ یہ اہم معاہدہ ہمارے اہم پیٹنٹ پورٹ فولیو کی تصدیق کرتا ہے اور ایرکسن کےFRANDاصولوں پر عمل پیرا ہونے کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔
پچھلے کئی دہائیوں کے دوران ایرکسن نے تحقیق وترقی کے میدان اور عالمی معیار کے موبائل فون تیار کرنے میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے اور وہ ہر جگہ صارفین اور کاروباری اداروں کے مفادات کیلئے منصفانہ، معقول اور غیر امتیازی سلوک (FRAND)کی شرائط پر اپنے معیاری ضروری پیٹنٹ کو لائسنس دینے کیلئے پرعزم ہے۔ FRANDسسٹم ٹیکنالوجی اور دانشورانہ املاک تک رسائی کی اجازت دیتا ہے، جسے ایرکسن جیسی نامور کمپنیوں نے تیار کیا ہے۔
ایرکسن کا پورٹ فولیو57000سے زائد منظور شدہ پیٹنٹ تک پھیلا ہوا ہے جس کو کمپنی کی تحقیق وترقی کے میدان میں سالانہ 40ارب سیک سے زائدکی سرمایہ کاری سے مزید تقویت ملتی ہے۔ فائیو جی میں نمایاں عالمی پوزیشن کے ساتھ کمپنی کو اپنی آئی پی آر آمدنی طویل مدت تک بڑھنے کی امید ہے جس سے پیٹنٹ پورٹ فولیو کی مجموعی قیمت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

إرسال تعليق
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.