امریکہ (ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک) بھارت کے رویے کی وجہ سے بھارت کی اقلیتیں نالاں ہیں، بھارت اقلیتوں کو بھارتی قانون کے مطابق حقوق نہیں دیئے۔ بھارتی سکھ برادی بھی بھارت سے تنگ آچکی ہے۔ امریکہ میں مقیم سکھوں نے بھارت کے یوم آزادی کا بائیکاٹ کرکے 14 اگست کو پاکستان کی یوم آزادی کی تقریبات میں بھر پور شرکت کا اعلان کرکے بھارت کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں ہیں۔ نیویارک میں مقیم سکھ برادری کے ایک رہنماچرن سنگھ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگومیں کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے انہوں نے مسلمانوں کی سرعام گردنیں کٹوائی تھی اور آج وہ بھارت کا وزیراعظم بن کر کشمیر میں اور بھارت میں موجود اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اور افسوسم کا مقام تو یہ ہے کہ کوئی بھی جمہوریت پسند ملک بھارت کی انسانیت اور جمہوریت دشمن حرکتوں کو روکنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
چرن سنکھ نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ہونے والے مظالم اور غیر انسانی سلوک اور کشمیر میں بھارتی فوج کے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم کو دنیا بھر کی جمہوریتیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نظر انداز کررہی ہیں۔
چرن سنکھ ایک جانے مانے وکیل ہیں اور نیویارک میں مقیم ہیں انہون نے مزید کہا کہ بھارت کے " رام رام " کرنے والے ہندو لیڈر نریندر مودی نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو " رام " کر رکھا ہے پاکستانی حکومت کی خاموشی کی وجہ سے بھارت کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں اور کوئی بھارت کو روک نہیں پا رہا۔ بھارت اگر خوفزدہ ہوتا ہے تو صرف پاکستان سے ہوتا ہے۔ سکھ رہنما نے بھارت پر الزام لگایا کہ سب کو بھارتی خفیہ ایجنسی " را " کے افغانستان سے مل کر پاکستان میں بم دھماکے کروانے کا علم ہے لیکن دنیا بھر کے بڑے ممالک ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی ممالک جب بھارت میں کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو پاکستان خلاف بولنا شروع کردیتے ہیں، پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ سکھ برادری کے رہنما کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مقیم سکھ کیمونٹی بھارت کے یوم آزادی کو بطور " یوم سیاہ " منائے گی اور بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا جائے گا۔
چرن سنکھ نے کہا کہ بھارت کی غلامی سے سکھ عوام کو آزاد کرانے کے لئے اقوام متحدہ اور امریکہ کو خط بھیج دیئے ہیں جس میں کہا ہے کہ سکھ عوام بھارت کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئےجدوجہد کر رہی ہے اور ہم بھارت سے آزادی لے کر ہی دم لیں گے۔ چرن نے مزید کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں جاری کشمیری عوام کی آزادی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اگر ہمیں پاکستان کی جانب سے مدد فراہم کی گئی تو ہم بہت جلد خالصتان اور مقبوضہ کشمیر کو بھی آزاد کروا سکتے ہیں۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.