پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش میں بڑی کامیابی: سوئی سے بھی بڑے ذخائر دریافت، پریشر کِک مل گئی
کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش میں بڑی کامیابی ملنے خبریں آرہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گہرے سمندر میں ڈرلنگ کے دوران پریشر کِک مل گئی، پریشر کِک گیس کے بڑے ذخائر کی موجودگی کی نوید ہوتی ہے۔ بحیرہ عرب کے پانیوں میں الٹرا ڈیپ واٹر ڈرلنگ جاری ہے، گہرے سمندر میں سوئی سے بھی زیادہ گیس ذخائر ملنے کا امکان ہے، تیل وگیس کی تلاش کیلئے 3 ہزار میٹر تک ڈرلنگ ہو چکی ہے، سمندر میں الٹرا ڈیپ ڈرلنگ 4 ہزار میٹر سے زائد تک کی جائے گی۔
ڈرلنگ سمندر میں کیکرا ون نامی کنویں میں کی جا رہی ہے، پی پی ایل، اوجی ڈی سی ایل، ای این آئی اور ایگزون موبل ڈرلنگ میں شامل ہیں۔ پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت کر لیے گئے، ذرائع کے مطابق امریکی کمپنی ایگزن موبائل 5 ہزار میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کرنے میں کامیاب، بنا کسی رکاوٹ کے اتنی گہرائی میں ڈرلنگ کرنا اور پرشر کک ملنے کا مطلب ہے کہ تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے حوالے سے قوم کو بالآخر بڑی خوشخبری سنا دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت کر لیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی کمپنی ایگزن موبائل 5 ہزار میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ زیر سمندر 5 ہزار میٹر کی گہرائی تک ڈرلنگ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
تاہم امریکی کمپنی ایگزن بنا کسی رکاوٹ کے زیر سمندر 5 ہزار میٹر کی گہرائی تک ڈرلنگ کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔
