خیبر پختونخواہ میں 10 ہزار کی آبادی کے لئے صرف 7 فزیشنز دستیاب ہیں: رپورٹ
پشاور(ڈیلی مشرق) آبادی کے تناسب سے خیبرپختونخوا میں مریضوں کے علاج کیلئے فزیشنزاور سائیکاٹرسٹ کی کمی کاسامنا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو ڈاکٹروں تک رسائی کا مسئلہ درپیش ہے ، محکمہ صحت نے ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے کا ہدف مقرر کردیا ہے،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور ڈبلیو ایچ او کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ہسپتالوں میں دس ہزار کی آبادی کیلئے 7 فزیشنز موجود ہیں، اسی طرح دس لاکھ کی آبادی کیلئے ذہنی امراض کے مریضوں کے علاج کیلئے سائیکاٹرسٹ کی تعداد صرف 3 جبکہ سرجنز کی تعداد13ہے جبکہ عالمی معیار کے مطابق مطلوبہ آبادی کیلئے ان ڈاکٹروں کی تعدادکم از کم 11 ہونی چاہیے۔
اس سلسلے میں محکمہ صحت کی جانب سے ٹارگٹ رکھا گیا ہے کہ 2030تک فزیشنز کی تعداد بڑھا کردس ہزار آبادی کیلئے11، دس لاکھ کی آبادی کیلئے سائیکاٹرسٹ7 اور سرجنز کی تعداد26 تک بڑھا ئی جائے گی ۔ محکمہ صحت خیبرپختونخو ا نے متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹیز کی جانب سے ڈاکٹروں کی فعال رجسٹریشن کی تجویز بھی پیش کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق صوبے کے دوردراز اضلاع میںخاص طور پر سائیکاٹرسٹس اورسرجنز کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو پشاور لایاجاتاہے۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.