بینک الفلاح نے پہلی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کے ساتھ قبل از ٹیکس 21 فیصد منافع کا اعلان کردیا

بینک الفلاح نے پہلی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کے ساتھ قبل از ٹیکس 21 فیصد منافع کا اعلان کردیا 




 کراچی: بینک الفلاح کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 25 اپریل 2019 کو ابو ظہبی میں منعقدہ اجلاس میں 31 مارچ 2019 کو اختتام پذیر ہونے والی سہ ماہی کے بینک کے غیرآڈٹ شدہ عبوری مالیاتی اعداد و شمار کی منظوری دے دی ہے۔ بینک کا 31 مارچ 2019کو اختتام پذیر ہونے والی سہ ماہی کا منافع قبل از ٹیکس گزشتہ سال 5.075 ارب روپے کے مقابلے میں 21 فیصدکے متاثرکن اضافے کے ساتھ 6.134 ارب روپے ہوگیا۔ بینک کا منافع بعد از ٹیکس 3.122 ارب روپے رہا جو معمولی رہا جس کی وجہ منی بجٹ کے ذریعے سال 2017 میں سپر ٹیکس عائد ہونے سے بلند شرح ٹیکس ہے۔ فی شیئر آمدن (ای پی ایس) مارچ 2018 میں 1.85 روپے کے مقابلے میں 1.76 روپے رہی۔


بینک نے بلند شرح سود کے رجحان میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ اس سہ ماہی کے لئے مجموعی ریونیو گزشتہ سال اسی عرصے میں 10.364 ارب روپے کے مقابلے میں 30 فیصد اضافے کے ساتھ 13.450 ارب روپے رہا۔ ریونیو میں اضافے کی بنیادی وجہ پالیسی ریٹ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بلند اوسط حجم میں ہم آہنگی کے ساتھ قرضوں میں اضافہ ہے۔ فیسوں سے حاصل آمدن بڑھ کر 11 فیصد ہوگئی جبکہ گزشتہ سال گورنمنٹ سیکورٹیز پر حاصل منافع اور سال 2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسٹاک مارکیٹ سے پڑنے والے اثرات سے ہم آہنگی کی وجہ سے کیپٹل گین میں تبدیلی آئی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر نان فنڈ سے حاصل آمدن گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہی۔ 

انتظامی اخراجات اسی عرصہ کے مقابلے میں 16 فیصد بڑھ گئے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ڈیپازٹ پروٹیکشن انشورنس (جو ایک نئی لیوی ہے)، سہولیات سے محروم افراد کے لئے بینکنگ کی خدمات کو فروغ دینا، افراط زر کو ایڈجسٹ کرنے کی وجہ سے لاگت پر مجموعی اثرات اور روپے کی قدر میں کمی شامل ہیں۔ سالانہ انکریمنٹ اور پرفارمنس بونس سائیکل کے ساتھ نئے افراد کی بھرتیاں بھی اس اضافے کی وجہ ہیں۔ اس سے بینک کی اس سوچ کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ افرادی قوت پر وسائل صرف کرتی ہے۔ 

اس سہ ماہی میں مارچ کے اختتام تک 3.9 فیصد کے مجموعی غیرفعال قرضوں کے ساتھ ایسٹ کوالٹی مستحکم رہی جو قرضوں کے پورٹ فولیو میں کمی کی وجہ سے دسمبر کے اختتام کے مقابلے میں قدرے بلند ہے۔ مکمل غیرفعال قرضے دسمبر 2018 کی سطح کے مقابلے میں کم رہے۔ 

بینک کے شیئر ہولڈرز کی ایکویٹی میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ ڈیویڈنڈ کی بعد از ادائیگی ہے جس کی منظوری شیئر ہولڈر کی جانب سے مارچ 2019 میں منعقدہ سالانہ اجلاس عام دی گئی۔ پہلی سہ ماہی کے اختتام پر بینک 16.18 فیصد سی اے آر (CAR) کے ساتھ انتہائی مناسب طور پر مستحکم رہا۔  

بینک کی افغانستان میں آپریشنز فروخت کرنے کی درخواست افغانستان کے مرکزی بینک کی جانب سے مسترد کردی گئی اور اسکے نتیجے میں درکار اکاؤنٹنگ معیارات کے تحت مالیاتی اعداد و شمار میں اسے مسلسل آپریشنز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 

بینک الفلاح کے سی ای او نعمان انصاری نے بینک کی سہ ماہی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "معاشی حالات میں مشکلات کے باوجود بینک کے مضبوط صارف مرکز ماڈل سے ہم اپنے صارفین کو غیرمعمولی تجربات کے ساتھ مسلسل اچھے نتائج فراہم کرتے ہیں۔" 

Previous Post Next Post