عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا : پٹرول کی قیمت 4 سال بعد ایک بار پھر 100 سے اوپر چلی گئی، نئی قیمت 108 ہوگئی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) نے پیٹرول کی قیمت 108 روپے فی لیٹر کرنے کی منظوری دے دی۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 108 فی لیٹر مقرر کرنے کی منظوری دی جب کہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 4.89 اضافے کو منظور کیا گیا ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں فی لیٹر 7.46 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 96.77 روپے ہو گی جب کہ لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6.40 روپےاضافے سے122.32 منظور کی گئی ہے۔
چار سال 5ماہ بعد پٹرول کی قیمت ایک مرتبہ پھر تین ہندسوںمیں داخل ہوگئی ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 31اکتوبر 2014 کو پٹرول کی قیمت میں یکمشت 9روپے 43 پیسے کی کمی کر کے کئی سال بعد پٹرول کی قیمتوں کو ڈبل ہندسے میں لانے کا اعلان کیا تھا۔
ای سی سی نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 108 فی لیٹر مقرر کرنے کی منظوری دی جب کہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 4.89 اضافے کو منظور کیا گیا ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں فی لیٹر 7.46 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 96.77 روپے ہو گی جب کہ لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6.40 روپےاضافے سے122.32 منظور کی گئی ہے۔
چار سال 5ماہ بعد پٹرول کی قیمت ایک مرتبہ پھر تین ہندسوںمیں داخل ہوگئی ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 31اکتوبر 2014 کو پٹرول کی قیمت میں یکمشت 9روپے 43 پیسے کی کمی کر کے کئی سال بعد پٹرول کی قیمتوں کو ڈبل ہندسے میں لانے کا اعلان کیا تھا۔
اس وقت کی حکومت نے یکم نومبر 2014کو پٹرول کی قیمت 9روپے 43پیسے، ڈیزل 6 روپے 18 پیسے، مٹی کا تیل 8 روپے 16 پیسے جبکہ ہائی آکٹین کی قیمت 14روپے 68 پیسے کم کی، جس کے بعد پٹرول کئی سال بعد کم ہو کر دہرے ہندے میں آ گیا اور اس کی نئی قیمت 94 روپے 14 پیسے ہوگئی تھی۔ جس کے بعد پچھلے دور حکومت کے تیسرے برس کے دوران یکم اپریل 2016کو پٹرول کم ہو کر 64 روپے 27پیسے کی کم ترین سطح پر آگیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کے 8ماہ کے دوران ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے بڑھتے تین ہندسوں یعنی 100 روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.