بلڈر مافیا جیت گئی، کراچی ہار گیا: الیکشن کے موقع پر جو رقم لگائی گئی تھی اس کی وصولی کا وقت آگیاہے: الطاف شکور

بلڈر مافیا جیت گئی، کراچی ہار گیا: الطاف شکور
الیکشن کے موقع پر جو رقم لگائی گئی تھی اس کی وصولی کا وقت آگیاہے

حکومت نے کرپشن کے سمندر کا دروازہ کھول دیاہے
کراچی کو چارٹر سٹی کا درجہ دیا جائے تا کہ یہاں کی ایڈمنسٹریشن اپنے اصول و قوانین مرتب کرسکے

کراچی میں 50منزلہ عمارتوں کی تعمیرکراچی کے ساتھ بھیانک مذاق ہے، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین کا کابینہ کے فیصلے پر رد عمل

کراچی ( پریس ریلیز ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکو ر نے کہا ہے کہ بلڈر مافیا جیت گئی ہے اور کراچی ہار گیاہے۔ الیکشن کے موقع پر جو رقم لگائی تھی اس کی وصولی کا وقت آگیا ہے۔ حکومت نے کرپشن کے سمندر کا دروازہ کھول دیا ہے۔ کابینہ کی جانب سے کراچی میں 50 منزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الطاف شکور نے اس فیصلے کو کراچی اور اس کے عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ کسی طور بھی کراچی کے حق میں نہیں ہے۔ کیا حکومت نے ان فلک بوس عمارتوں کی تعمیر سے قبل مناسب پانی،صفائی ستھرائی، بجلی، گیس اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کر لی ہے؟کیا اس فیصلے کے پس پردہ ان لوگوں کو نوازنا تو نہیں ہے جنہوں نے الیکشن میں سرمایہ کاری کی تھی؟ اور اب حکومت اس طرح کے فیصلے کر کے ان کا حساب چکتا کر رہی ہے۔ کراچی 3 کروڑ کی آبادی  کے ساتھ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک ہے۔ وہاں آبادی میں مزید اضافہ کر کے بوجھ ڈالنے کے لئے کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کسی طور درست نہیں۔ شہر قائد، عروس البلاد،روشنیوں کا شہر، غریب پرور شہر اور نجانے کون کون سے القابات سے نوازے جانے والے شہر کا آج کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ جہاں نہ بجلی ہے نہ گیس، پینے کا صاف پانی تودرکنار پانی سرے سے میسر ہی نہیں ہے۔ آلودگی میں بھی یہ دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔جہاں کی سڑکیں زبان حال سے خود کو نظر انداز کئے جانے کی درد ناک کہا نی سنا رہی ہیں۔ جہاں روز بروز بڑھتی ہوئی آلودگی کی جانب عالمی ادارے مسلسل توجہ دلا رہے ہیں لیکن کراچی کے وہ ادارے جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو شہریوں کے لئے بہتر سے بہترین بنائیں ان پر گہری نیند طاری ہے۔ کیا اسی لئے کراچی نے پی ٹی آئی کو14 قومی کی اور 28 صوبائی سیٹیں دی تھیں کہ حکمران مزے سے اپنے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے،دور دراز سے کراچی کی بہتری و ترقی کا سوچے بغیر اپنے مفادات کیلئے اسے تباہ کر دیں؟ کراچی کا انفرا سٹرکچر پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے۔کئی سو سال پرانی ڈیزائن کردہ سیوریج اور پانی کی لائنیں ہیں جو انتہائی خستہ حالت میں ہیں۔جگہ جگہ ابلتے گٹر، کچرے کے ڈھیر، صحت و صفائی کا فقدان، آلودگی اور نجانے کون کون سے مسائل ہیں جو کراچی کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں کابینہ نے 50 منزلہ عمارتوں کی منظوری دے کر کراچی پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کے علم میں ہونا چاہئے کہ اسلامی شہر کا تصور محدود آبادیوں پر مشتمل ہے۔ زیادہ آبادی ہونے کی صورت میں نئے شہر بسائے جاتے ہیں۔50 منزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دے کر کیا کراچی پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جا رہا؟الطاف شکور نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے اطراف میں نئے شہر بسا کر کراچی کی آبادی کو کم کیا جائے اور اور اس کو چارٹر سٹی کادرجہ دیا جائے تا کہ چارٹر سٹی کی انتظامیہ یہاں کے حالات کے موجب فیصلہ کرے کہ شہر کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔کراچی چارٹر سٹی کی ایڈ منسٹریشن یہاں کے حالات اور مسائل کو مد نظر رکھ کر اصول و قوانین مرتب کرے اور 200سالوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کراچی کا نیا ماسٹر پلان مرتب کرے جس میں میگا سٹی شہر کے لئے ٹرانسپورٹ، بجلی، پانی، گیس اور سیوریج کی سہولتوں کو بھی بہتر بنایا جا سکے

Previous Post Next Post