مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے پر چین کا بھارت کے خلاف سخت ترین ردعمل سامنا آیا ہے، چین نے بھر پور مخلالفت کا اعلان کردیا ہے
بیجنگ (ٹائمزآف چترال نیوز ڈیسک 1 نومبر 2019) چین نے مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو غیر قانونی اور باطل عمل قرار دے دیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر نام نہاد جموں و کشمیر اور لداخ یونین کے علاقوں کا اعلان کیا جس میں چین کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں بھارت نے اپنے دائرہ اختیار میں شامل کیا ہے۔
جینگ شوانگ نے کہا کہ چین ان اقدامات کی بھرپور مخالفت کرتا ہے جس میں بھارت نے یک طرفہ طور پر اپنے مقامی قوانین اور انتظامی تقسیم کو تبدیل کر کے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے جس سے چین کی سالمیت متاثر ہوگی۔ واضح رہے کہ مودی سرکار 5 اگست کے سیاہ فیصلے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی قوانین نافذ کردئیے۔نئے قوانین کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔
جمعرات کے روز سے بھارت اور چین کے درمیان لفظی جاری ہے جو اب شد اختیار کرگئی ہے۔ یہ جنگ بھارت کے اس فیصلے کے بعد شروع ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کیا گیا ہے اور اس نے متنازعہ ریاست کی آئینی خودمختاری کو باضابطہ طور پر کالعدم کردیا اور اسے مکمل طور پر ہندوستان میں ضم کرنے کی غرض سے اسے دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کردیا ہے۔
مسلم اکثریتی کشمیر میں دکانیں اور دفاتر بند کردیئے گئے اور اس کے مرکزی شہر سری نگر میں سڑکیں بڑی حد تک ویران ہوگئیں کیونکہ جموں وکشمیر کی 173 سالہ سابقہ سلطنت مملکت کی سب سے بڑی تنظیم نو میں نئے منتظمین نے اپنے عہدے کا حلف بھی لیا۔
پاکستان، جو پورے کشمیر کا دعویدار ہے، نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ کشمیر تاریخ سے چھوڑا ہوا تنازعہ ہے جسے پرامن طور پر حل کیا جانا چاہئے۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.