چترال ریشن میں دکانوں پر چوروں کا حملہ، تالہ توڑ ، دیوار توڑ چور گروہ ایک بار پھر سرگرم، اب تک کئی دکانیں توڑی گئی ہیں؛ پولیس حفاطت کی ذمہ داری لینے سے معذرت خواہ
چترال (ٹائمزآف چترال نمائندہ خاص 27 فروری 20 ) چترال ریشن میں دکانوں پر تالہ توڑ ، دیوار توڑ چور گروہ سرگرم ہوگیا ہے۔ اب تک متعدد دکانوں کا صفایا کر چکے ہیں۔ ریشن بازار میں واقع متعدد دکانوں کو گزشتہ ہفتے رات نا معلوم چور گروہ نے تالے اور دیواریں توڑ کر لوٹ چکا ہے۔ ایک ہی رات کو 4 سے پانچ دکانیں میں داخل ہوئے ہیں اور پیسوں سمیت قیمتی اشیاء لیکر فرار ہوگئے تھے۔ گزشتہ رات پھر اس بار پھر گروہ نے دکانوں پر دھاوا بول دیا۔ چترال ، ریشن کے علاقے راغین میں دینار علی نامی شخص کی موبائل کی دکان میں چھت توڑ کر اور برابر والی گیرج کی دیوار توڑ کر داخل ہوئے اور نقدی سمیت قیمتی موبائل لیکر فرار ہوئے۔
پولیس کو اطلاع دی گئی تاہم پولیس آئی جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد دکانوں کی حفاظت کی ذمہ دکانداروں پر ڈال دی۔ لوگوں کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان کی دکانوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، اپنے املاک کی حفاظت وہ خود کریں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر چترال پولیس کر رہی ہے تو کیا کر رہی ہے۔ شہر کی طرح دیہات میں پولیس کا کام تھانوں میں بیٹھنے کے علاوہ ہوتا کیا ہے۔ کیوں نہ ہر گاؤن میں رات کے پہرے کے لئے پولیس کی 2 نفری تعینات کئے جاتے۔ پولیس گشت کیوں نہیں کر رہی ۔ کیا تھانوں میں رہنے کے لئے پولیس ہے۔ عوام کا حکومت اور آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ سے سوال ہے کہ آخر عوام اور ان کے املاک کی حفاظت کون کریگا۔ چوروں کو پکڑ کر ان کے لوٹے ہوئے مال کون واپس دلائے گا۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.