پچیس (25) انسانی جانیں خطرے میں 12500 فٹ کی بلندی پربروغل کے مسافروں کا احتجاجی دھرنا۔
سول انتظامیہ بے بس ، کمانڈ نٹ چترال سکاوٹس کی اجازت نہیں : ڈی سی اپر چترال
غذر(فدا علی شاہ غذری) خوفناک وائرس کا خوف یا بے رحمی اور غیر انسانی سلوک کی انتہا ، چترال کی سول انتظامیہ ا ور چترال سکاوٹس کے ہاتھوں بروغل کے 25 مزدور رل گئے۔ تیسری مر تبہ چترال داخلے کی اجا زت نہ ملنے پر شندور ٹاپ پر احتجاج میں بیٹھ گئےجانیں خطریں میں پڑ گئیں۔
غذر انتظامیہ اور سول انتظامیہ چترال کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد مسافروں کو اپنے آبائی علاقے میں داخلے کی اجازت مل گئی تھی تاہم منگل کے روز ایک بار پھر ان کو شندور میں تعینات چترال سکاوٹ نے داخلے سے روکدی جس پر تمام مسافر ڈٹ گئے اور واپس جانے سے صاف انکار کر تے ہو ئے دھرنے پر بیٹھ گئے۔
جب اس حوالے سے ڈی سی اپر چترال سے رابطہ کیا گیا تو ان کا تھا کہ ہمیں عوام کا خوف ہے وہ احتجاج کر ر ہے ہیں کہ ان لو گوں کو ضلع میں داخل ہو نے کی اجازت نہیں ملنی چا ہئے تاکہ چترال محفوظ رہ سکے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اسوقت 25 انسا نی جانیں ٹاپ پر پھنس چکی ہیں اوپر سے برف باری ہو رہی ہیں انہیں کچھ ہو ا تو ذمہ دار کون ہو گا تو ڈی سی نے کہا کہ اس وقت انہیں داخلے کی اجازت چترال سکاوٹس کے کمانڈنٹ کی طرفسے نہیں مل رہی ہے۔ دوسری طرف جب چتر ال سکاوٹ کے کمانڈنٹ سے رابطہ کیا گیا تو پہلے نماز کا بہانہ بنا کر دوبارہ رابطے کا کہا لیکن پھر ٹیلی فون نہ اٹھا نے میں عا فیت سمجھی ۔
چترال کی سول انتظامیہ اسوقت بے بسی کی تصویربنی ہو ئی ہے ایک طرف چترال سکاوٹس کے کمانڈنٹ ان کو خاطر میں نہیں لاتے جبکہ دوسری طرف عو ام کا خوف کھا یا جارہے۔ سمجھ یہ نہیں آرہا ہے کہ اسوقت کرونا کی وبا سے پورا ملک متاثر ہے اور خود کے پی کے بھی وائرس کی ذد میں ہے جہاں سے سینکڑوں مسافر چترال داخل ہو رہے ہیں جبکہ چترال انتظامیہ کو گلگت سے داخل ہونے والے اپنے شہریوں سے خوف ہے۔
یاد رہے جب ان مسافروں کو پہلی دفعہ داخلے کی اجازت نہیں ملی تو مجسٹریٹ پھنڈر عاطف محمود ایس ایچ او پھنڈر آمیر خان نے علا قے کے عما ئدین ، نمبردار چھیر گولی خان، صوبیدار شیر مدد شاہ ، ایڈوکیٹ صفدر علی شیرازی اور لوکل کونسل کی ٹیم نے مسافروں کے طعام و قیام اور بر سیت تک ٹرانسپور ٹ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیئے۔ مسافروں کے لئے عبدالجہان سابق نگران وزیر خوراک جی بی نے اپنے کا لج کی عمارت فراہم کیئے۔
تمام مزدور ابتدائی طبی مراحل سے گزر نے کے بعد سفر کر رہے تھے.

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.