تبلیغی جماعت کے شکوے اور میرے خیالات | تحریر: ناصر علی شاہ

تبلیغی جماعت کے شکوے اور میرے خیالات | تحریر: ناصر علی شاہ 

میری ڈیوٹی ایک قرنطینہ سنٹر میں لگی ہے جہاں 60 تبلیعی جماعت اور 10 مختلف شہروں سے آئے ہوئے لوگ شامل ہیں ان میں کسی کے چار کسی کے سات اور کسی کے 10 دن ہوگئے ہیں آج ہم نے چیک آپ کرکے کافی لوگوں کے ٹیسٹ بھی بھجوا دیئے اس دوران کافی بندوں نے غصہ کا اظہار کئے اور کچھ شکوہ شکایت کیساتھ حکومت اور ایڈمینسٹریشن کو اچھے لفظوں سے یاد بھی کئے کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ صرف تبلیعی جماعت کو نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ ہمارے مذہبی سیاسی قائدین بھی ایسا ہی کہہ رہے ہیں مجھے اندازہ ہوگیا کہ ان کو غلط کونسیلینگ کیا جا چکا ہے تو اس مشکل وقت میں اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ان کو سمجھانا اپنا فرض سمجھ کر لب کشائی کی اجازت چاہی تو ایک معزز شخص غالباً ان کا امیر تھا سب کو بٹھایا اور بات سننے کا کہا۔ 

میں ان کے ساتھ, آپ تمام سے بھی مخاطب ہوں جو اس نازک دور میں خود گھروں میں بیٹھ کر میڈیا یا سوشل میڈیا کے زریعے ان لوگوں اور ان کے خاندان والوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔

اسلام امن, محبت اور بھائی چارہ کا مذہب ہے اسلام آسان دین ہے جو اس مشکل حالات میں آسانی کا اندازہ ہو رہا ہے اور سوچنے والی بات بھی ہے۔ 

سوات میں جب طالبان آئے تو سب ان کے حامی تھے کیوں نہ ہو شروع میں ان کی تمام باتیں عین اسلامی تھے مگر آہستہ آہستہ وہ کھلتے گئے اور حالات و وقعات سب کے سامنے ہے آخر کار ان لوگوں کی طرف سے فوج و حکومت کی رٹ کو چلنچ کیا گیا تو ان کے خلاف بھرپور کاروائی ہوئی بعد ازاں پتہ چلا ان میں بیرونی قوتیں کارفارمہ تھی جن کا مقصد مسلم فسادات, ملک کو کمزور و غیر مستحکم کرنا تھی اور کسی حد تک کر بھی چکے تھے۔

اب آتے ہیں تبلیعی جماعت کی طرف جو اللہ تعالی کی قربت حاصل کرنے کے لئے گھر بار چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکل جاتے ہیں. کچھ مہنوں کے لئے دنیا و مافیہا سے بے خبر تسبیح و گریاوزاری میں وقت گزار لیتے ہیں. یہاں بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے جہاں طالبان کے بیچ میں بیرونی قوتیں شامل ہوکر ان کا پورا نصب العین تبدیل کرسکتے ہیں کیا وہاں تبلیغی جماعت میں شامل ہوکر بیماری نہیں پھیلا سکتے کیونکہ اس جماعت میں باہر سے بھی لوگ شامل ہوتے ہیں. تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والا ہو یا عام شہری, قرنطینہ میں رکھنے کا مقصد اس فرد کے خاندان, گاؤں کو اس وبا سے بچانے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں اور نہ جماعت کے لوگوں کو حکومت نشانہ بنا رہی ہے. جو حضرات سوشل میڈیا کے اوپر بیٹھ خوامخواہ لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں خدارا اس ملک اور یہاں رہنے والے لوگوں کے حال پر رحم کرے اور جماعت کے سیدھے سادھے لوگوں کو اشتعال نہ دلائے. زائرین کا بھی یہی حال رہا مقدس مقامات پر جانے سے منع کیا گیا مگر اپنی من مانی کرکے زیارت کرتے گئے اور بیماری پھیلتی گئی. ہمارے دشمن کی طرف سے ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مذہب کارڈ کا استعمال کیا جا سکتا ہے مگر یہاں انسانیت کی خاطر سب کو سمجھ کر انتہائی حساس طریقے سے چلنا ہوگی. جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنے ٹینیور کے دوران کہا تھا کہ دشمن ہمارے رگوں میں داخل ہوچکا ہے تو اس وقت اس بات کو زہن میں رکھتے ہوئے خواہ مخواہ مذہب کارڈ استعمال کرنے سے گریز کرکے حکومت کا بھرپور انداز میں ساتھ دینا چاہئے تاکہ کم سے کم وقت میں اس وبا پر قابو پایا جاسکے کیونکہ یہ نہ مذہب دیکھتا ہے نہ رنگ و نسل, جس نے احتیاط کی اللہ کے حکم سے بچ گیا۔

تمام حضرات چاہے تبلیغی ہو یا زائرین, گورا ہو یا کالا سب کے سامنے یہ حدیث مبارک رکھنا چاہونگا۔

رسول اللہ (ص) نے فرمایا جہاں کوئی وبا پھیلی ہو وہاں جانا نہیں اور اس جگہ جہاں وبا پھیلی ہو وہاں سے نکلنا نہیں.. کتنے لوگوں نے اس حدیث پہ عمل کئے ؟

خدارا حکومت کیساتھ تعاون کیجئے اور غیر ضروری گھروں سے نہ نکلنے کے علاوہ کسی معاملے کو مذہبی رنگ دینے سے گریز کیجئے۔

-----------------------------------------------------------------------------

مضامین مضمون نگار کی ذاتی آراء پر مبنی ہوتے ہیں لہٰذا ادارے کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اور  ادارے کی پالیسی  کا مضمون پر تبصروں یا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔





Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post