سوشل میڈیا گٹر سے بھی گندہ ہے، سوشل میڈیا اور بہنوں کی عزت کے حوالے سے ایک تحریر ضرور پڑھیں اور شیئر کریں

سوشل میڈیا گٹر سے بھی گندہ ہے، سوشل میڈیا اور بہنوں کی عزت کے حوالے سے ایک تحریر ضرور پڑھیں اور شیئر کریں



سوشل میڈیا ایک گٹر ہے: میر شکیل الرحمٰن

تحریر افسر خان بیگال

جب یہ جملہ میڈیا ٹائیکون میر شکیل الرحمٰن کی زبانی سنا تھا تو کچھ برا سا لگا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میر شکیل کا جملہ ایک اقوال زرین کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ سوشل میڈیا؛ اب گٹر سے بھی گندی اگر کوئی چیز ہے تو وہ سوشل میڈیا ہے۔ ہر چیز کی تخلیق ایک مثبت استعمال کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کا استعمال کا طور طریقہ بھی بدل جاتا ہے۔ 

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک ، ٹک ٹاک ، انسٹرا گرام ، وٹس ایپ ، سنپ چیٹ ، لائیکی وغیرہ حالانکہ ان کی عمریں زیادہ لمبی نہیں ہیں لیکن کمی عمری میں ہی دنیا بدل دی ہیں۔ معاشرے پر جہاں ان کے مثبت اثرات رابطے اور پیغام رسانی اور ضروری ویڈیوز تصویریں اور دیگر مواد شیئرنگ کے حوالے سے ہیں لیکن منفی استعمال کی وجہ سے ان کا معاشرے پر تباہ کن اثرات زیادہ ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ان چیزوں کا بہتر اور مفید استعمال ہوتا ہے وہاں ترقی پزیر ممالک میں تفریح ، تنقید اور عزتیں اچھالنے کے لئے بہترین ٹولز کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

ان موبائل اپیس اور سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس کو جہاں ہم اپنے گناہوں میں اضافے کے لئے استعمال کرتے ہیں وہاں ہم ان کے مالکان کو بہت زیادہ مالی فوائد بھی پہنچا رہے ہیں۔ یقیناً یہ جان کر آپ کو بڑی حیرانی ہوگی ہے ۔ 2019 کے ایک اعداد شمار کے مطابق فیس بک صارفین کی تعداد 2.45 بلین ماہانہ تک پہنچ گیا تھا۔ جو اب مزید بڑھ چکا ہوگا۔ سال 2019 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ میں فیس بک کے متحرک صارفین کی تعدا 2.41 بلین تھی ،جس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسی سہ ماہی میں فیس بک کی آمدنی 17.652 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی ۔ جس میں سال بہ سال 29 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ ہم اور آپ جتنی دیر فیس بک پر ایکٹیو رہتے ہیں فیس بک کی آمدنی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

خیر اس سے ہمیں کیا ۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم ایک طرف اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں اور دوسری جانب مسلم مخالف کمپنیوں کو مظبوط کرتے ہیں ، اس سے بھی بڑی بات یہ کہ ہم اپنی آخرت بھی تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے جس اخلاقی پستی اور تہذیبی زوال کا شکار ہوئے ہیں اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

حالیہ دنوں میں چترالی بھائیوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کو دیکھ کو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ مہذب قوم جس کی تہذیب کی مثالیں دی جاتی تھیں خود عبرت کا نشان بنتا جارہا ہے۔ بعض نا عقبت اندیش نام نہاد سکالرز اور سوشل میڈیا کے جعلی سوشل ورکرز اور ایکٹیوسٹ ، جو کچھ کر رہے ہیں ، اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہی سب کو ہدایت دے۔ سوشل میڈیا پر کس طرح اپنی ہی بہنوں کی عزتین اچھال رہے ہیں۔ اپنی ہی عزتیں پامال کر رہے ہیں۔ بہنیں سب کی ہیں، ایسا نہ ہو کہ کسی بہن کی عیب جوئی کی وجہ سے یہ گناہ پلٹ آئے اچھالنے والوں کے دروں پر۔

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے اندر دیکھنا چاہئے اور اسلامی تعلیمات کے آئینے میں اپنے کردار کو پرکھنا چاہئے۔ ہمارے نبی حضور ﷺ کے ارشادات کو پڑھنا چاہئے ۔ عیب جوئی سب سے بڑی بیماری ہے ہمارے معاشرے کی۔ لیکن عیب ہمیشہ سامنے والے کا نظر آتا ہے اپنے عیوب کسی کو نظر نہیں آتے۔

جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔صحیح مسلم:6490

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ، 

''اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں فساد پیدا کر دو گے یا قریب قریب فساد کے حالات پیدا کر دوگے۔''(ابوداود 4888 صحيح)

مسلمان کو اذیت نہ دو انہیں عار نہ دلاؤ اور ان میں عیوب مت تلاش کرو۔ کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عیب گیری کرتا اور جس کی عیب گیری اللہ تعالیٰ کرنے لگے وہ ذلیل ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔ ( جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2121 )

جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرے گا تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوتی۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 440 )

''اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے ۔کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے'' ۔سورہ الحجرت - آیات 12

ہر طعنہ زن اور عیب جوئی کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے۔ (الھمزہ ۱:۱۰۴)۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اگر تم لوگوں کی عیب جوئی کرتے پھرو گے تو انہیں مزید بگاڑ دو گے‘

حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے عیب جوئی کے متعلق فرمایا کہ:

بے شک لوگ عموماً عیب سے خالی نہیں، پس کسی کے پوشیدہ عیب ظاہر نہ کرو، ان کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے، وہ اگر چاہے گا تو معاف فرما دے گا اور جہاں تک تجھ سے ہو سکے لوگوں کے عیب چھپائے رکھ تاکہ اللہ تعالیٰ تیرے وہ عیب جن کو تُو چھپانا چاہتا ہے، پوشیدہ رکھے۔

 جو لوگ خود عیب دار ہوتے ہیں وہ لوگوں کے عیب ظاہر کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ ان کے اپنے عیبوں کی نسبت عذر کرنے میں انہیں گنجائش مل جائے۔

✅ سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ تم کسی پر وہ عیب لگاؤ جو خود تم میں موجود ہو۔ (نہج البلاغہ)

ہم اگر مسلمان ہیں، خود مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ پہلے اپنے آپ کو برائی سے روکیں اور پھر دوسروں کو برائیوں سے دور رہنے کی ترغیب دیں۔ تو قرآن اور سنت رسول ﷺ سے رو گردانی کرکے ہم جس مسلک کے بھی مسلمان ہیں ، ہم مسلمان نہیں ہیں۔ اگر اللہ پاک قرآن مجید میں ایک مسلمان سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے کہ ’’ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے ۔‘‘ پھر ہم کسی کی عیب اچھالتے ہیں ، تہمتیں لگاتے ہیں۔ تو پھر ہم اللہ کی نا فرمانی کرتے ہیں اور اللہ کی نا فرمانی کرکے مسلمان کیسے رہ سکتے ہیں؟

جس طرح مال کی چوری اللہ کی نظر میں بدترین عمل ہے اسی طرح کسی کے عیب اور خامیاں بیان کر کے اس کی عزت لوگوں میں اچھالنا بھی اللہ کی نظر میں بدترین اعمال میں شمار ہوتا ہے۔ ایک بار حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ نے کعبہ شریف کی طرف نظر کر کے فرمایا ’’تیری شان کتنی بلند ہے اور تُو کتنا محترم ہے لیکن اللہ کی نظر میں ایک بندۂ مومن تجھ سے بھی زیادہ محترم ہے۔‘‘ 

انسان ایک کمزور شیئے ہے۔ بے صبرا ہے، بہترین منصوبہ ساز نہیں ہے۔ کئی عیوب ہیں انسان میں۔ لیکن اس کے باجود بھی وہ اللہ کا بندہ ہے۔ اور بندۂ مومن اللہ کی نظر میں اپنی بشری کمزوریوں اور خامیوں سمیت محترم ہے۔ جب اللہ پاک خود اس کے عیبوں کو پوشیدہ رکھتا ہے اور اپنے انسانوں سے تاکید کرکے یہ فرماتا ہو کہ کسی کے عیبوں کو مت اچھالو۔ تو کسی بشر کو کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اس کے عیبوں کی تشہیر کرے۔ بے شک دوسروں کے عیبوں کو بیان کرنے والا خواہ کیسا ہی عبادت گزار، روزہ دار، حج و عمرہ کرنے والا ، ذکواۃ دینے والے، خیرات دینے والا کیوں نہ ہو، اُس عیبوں سے پُر، عام سے نیک انسان سے بدتر ہے جو اپنے عیبوں کی بنا پر خود کو دوسروں سے کمتر سمجھتا ہے اور اس کے اپنے عیب اسے دوسروں کے عیب دیکھنے سے روکے رکھتے ہیں۔ 

***


Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post