پیر کی صبح گولین وادی کے بالائی پہاڑوں پر طوفانی بارش، جس کے نتیجے میں ازغور گاؤں کے اوپر موجود گلیشئر پھٹنے سے تباہ کن سیلاب
چترال ( محکم الدین 13 جولائی 2020) پیر کی صبح گولین وادی کے بالائی پہاڑوں پر طوفانی بارش ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں ازغور گاءوں کے اوپر موجودگلیشئر کی جھیل پھٹنے سے زبردست سیلاب آیا ۔ اور وادی کے کئی مکانات ، مسجدو مدرسہ ، مویشی خانوں ، گاڑیوں ، پاءپ لائینوں ،سڑکوں ، پُلوں ، زمینات ، باغات اور تیار فصلوں کو بہا کر لے گیا ۔ اس سیلاب نے گذشتہ سال کی تباہ کُن سیلاب کی یاد تازہ کردی ۔ سیلاب سے گولین وادی کو جانے والی سڑک واش آوٹ ہو گیا ہے ۔ اور وادی تک پہنچنے کیلئے پیدل راستہ بھی ختم ہو چکا ہے ۔ وادی کے تقریبا تین ہزار کی آبادی مکمل طور پر محصور ہو چکی ہے ۔ مقامی پولیس کے مطابق سیلاب سے تین گھر مکمل بہہ گئے ہیں ۔ جن میں علی نور خان ولد کروئے ،عظمت ولد رحمت ولی خان ساکنان ازغور ، رحمت نبی ولد حاجی رحمت ساکن بو بکا کے مکانات شامل ہیں ۔ جبکہ بو بکا گاءوں میں موجود بچیوں کے مدرسہ ، مسجد کے وضو خانے کا نام و نشان تک نہیں ہے ۔ اسی طرح عبدالرزاق ولد عبدالعزیز ، رحمت ظاہر ولد میر وزیر ، صاھب نبی ولد حاجی گل کے مویشی خانے بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں ۔ خوش قسمتی سے سیلاب دن کے وقت آنے ا و ربالائی گرمائی چراگاہوں میں رہنے والے افراد کی طرف سے موبائل پر بر وقت اطلاع کی بدولت لوگ محفوظ مقامات میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے ۔ اس لئے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ تاہم بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے ۔ جن میں خصوصی طور پر گولین ہائیڈل پاور سٹیشن کے ہیڈ میں بڑے پیمانے پر ملبہ ہونے ، موری لشٹ واٹر سپلائی سکیم اور چترال ٹاءون واٹر سپلائی اسکیم کے نقصانات شامل ہیں ۔ گولین ہائیڈل پاور سٹیشن بند کر دی گئی ہے ۔ چترال شہر اور اطراف کو نیشنل گرڈ کی بجلی فراہم کی گئی ہے ۔ سیلاب سے گولین وادی کے اندر اطلاعات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ اور متاثرہ وادی کے اکثر مقامات میں بجلی نہیں ہے ۔ جبکہ نہری نظام مکمل طور پر متاثر ہو چکا ہے ۔
چترال شہر سے فی الحال ہیلی کاپٹر کے بغیر گولین وادی پہنچنا نا ممکن ہو گیاہے ۔ کیونکہ تمام تر راستے گذشتہ سال کی طرح بُری طرح سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں ۔ درین اثنا وادی کے کئی افراد نے کہا ہے ۔ کہ ازغور گلیشئر پر پڑنے والی دراڑیں دور سے نظر آرہی ہیں ، جس سے گلیشئر کے ٹوٹ پھوٹ سے مزید سیلاب کے خد شات بڑھ گئے ہیں ۔ اور علاقہ آفت زدہ ہو گیا ہے ۔ درین اثنا معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر اسسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالولی خان ،مختلف اداروں کے آفیسران ، ریسکیو 1122چترال پولیس کے ڈی ایس پی موجود تھے ۔ معاون خصوصی وزیر زادہ نے وزٹ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ موجودہ سیلاب گذشتہ سال کے سیلاب کے مقابلے میں کم ہے ۔ اور اچھی بات یہ ہے ۔ کہ حال ہی میں گذشتہ سال کے سیلاب کے بحالی کے کام کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اس لئے ہ میں گذشتہ سال کی طرح فنڈ کا انتطار نہیں کرنا پڑے گا ۔ اسی فنڈ سے ہم کام چلا سکتے ہیں ۔ تاہم اس بات کا خطرہ موجود ہے ۔ کہ از غور گلیشئر مزید پھٹ کر نقصان پہنچائے ۔ اس لئے ہ میں چند دن انتظار کرنا پڑے گا ۔ ;180; تاکہ حالات بہتر ہو نے کے بعد بحالی کا کام شروع کیا جائے ۔ اور مزید نقصانات نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گولین سیلاب کے خطر ۔ اس لئے قبل از وقت وہاں خوراک ، ٹینٹ اور دیگر سامان اسٹاک کئے گئے تھے ۔ جبکہ سکولوں کو متاثرہ خاندانوں کیلئے کھولا گیا ہے ۔ جہاں وہ قیام کریں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ لوگوں کی جانوں کو محفوظ بنایا گیا ہے ۔ اور ضلعی انتظامیہ کی تمام مشینری کسی بھی حالات سے نمٹنے کیلئے الرٹ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گذشتہ سال کی نسبت امسال گولین ہائیڈل کے ہیڈ کو بہت کم نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ۔ اور ہم کوشش کر رہے ہیں ۔ کہ فوری طور پر وادی کے ساتھ رابطہ بحال کیا جائے ۔ تاہم متاثرہ مقام پر لوگوں کو بنیادی ضروری اشیاء فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہوں نے بہت جلد ڈاکٹر بھی گولین وادی بھیجنے کی یقین دھانی کی ۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.