اورنج لائن میٹرو ٹرین کے افتتاح کی تیاریاں زور و شور سے جاری
لاہور، 12اکتوبر، 2020۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اورنج لائن میٹرو ریل نے نورنکو انٹرنیشنل کی سربراہی میں جوائنٹ وینچر (نورنکو انٹرنیشنل کوآپریشن، گوانگزو میٹرو گروپ (جی ایم جی)، ڈائیوو پاکستان ایکسپریس) کی انتظامیہ کے تحت آزمائشی آپریشنز کا آغاز کیا ہے۔ اس کے بعد کمرشل آپریشنز کی جلد شروعات کے لئے تیاری کے کام اختتامی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں۔
نورنکو انٹرنیشنل نے قائدانہ طور پر فروری 2020میں گوانگزو میٹرو گروپ (جی ایم جی) اور پاکستان ڈائیوو کمپنی کے ساتھ اشتراک قائم کرکے جوائنٹ وینچر ٹیم تشکیل دی جس نے اگلے آٹھ سالوں کے لئے اورنج لائن ٹرین کے آپریشن اور مینٹی ننس کا کنٹرایکٹ کامیابی سے حاصل کرلیا ہے۔
آپریشن اور مینٹی ننس کے کنٹرایکٹ پر دستخط کے بعد جوائنٹ آپریشن و مینٹی ننس ٹیم نے مختلف اقسام کی بھرتیاں سرانجام دیں اور تکنیکی تربیت فراہم کی۔ چینی ماہرین نے مقامی طالب علموں کو پیشہ ورانہ ریل ٹرانزٹ کی تربیت فراہم کی اور اساتذہ و ٹرینی اہلکاروں کے درمیان گہری دوستی کا تعلق قائم ہوگیا۔ اب تک جوائنٹ ٹیم بھرتیوں، اسکلز کی تربیت، جوائنٹ سروے اور ری ٹیسٹ کا کام مکمل کرچکی ہے اور اسکے آغاز کے لئے اچھی طرح تیار ہیں۔
اورنج لائن کے آغاز سے تقریبا ڈھائی لاکھ افراد کو روزانہ سفر کی سہولت حاصل ہوگی اور شہر کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں سفر کرسکیں گے جس کی بدولت ان کا ڈھائی گھنٹے کا سفر کم ہوکر صرف 45 منٹ رہ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اورنج لائن سب وے نے اسکی تعمیر کے دوران لاہور کے شہریوں کے لئے 7ہزار سے زائد مقامی طور پر ملازمتیں فراہم کیں جبکہ آپریشن اور مینٹی ننس کے دوران شہر میں نوکریوں کے تقریبا 2 ہزار مواقع پیدا کئے جس سے شہر میں روزگار کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ اورنج لائن سے نہ صرف شہریوں کے سفر میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ لاہور میں سماجی و معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا اور شہر کو جدید اور مزید ترقی یافتہ بنانے کے عمل میں تیزی آئے گی۔ لاہور میں ہریالی کی ترقی کے قوانین اور پاکستان کی قومی ترقیاتی حکمت عملی کی پاسداری کے ساتھ پاکستان اورنج لائن میٹرو ریل ٹرانزٹ سسٹم کے آغاز کے ساتھ سب وے کے دور میں باضابطہ داخل ہوجائے گا۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.