کینز بنانے والی پاکستانی کمپنی پاکستان ایلمونیئم بیوریج کینز لمیٹڈ نے آئی پی او کے ذریعے 3.3 ارب روپے اکٹھا کرنے کا اعلان کردیا

کینز بنانے والی پاکستانی کمپنی  پاکستان ایلمونیئم بیوریج کینز لمیٹڈ نے آئی پی او کے ذریعے 3.3 ارب روپے اکٹھا کرنے کا اعلان کردیا

کراچی 19جون 2021: ملک کی المونیئم کین بنانے والی واحد کمپنی پاکستان ایلمونیئم بیوریج کینز لمیٹڈ (پی اے بی سی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی عوامی پیش کش (آئی پی او) کے ذریعے ادارہ جاتی اور انفرادی سرمایہ کاروں کو 26فیصد حصص فروخت کرکے 3.3ارب روپے اکٹھا کرے گی۔ بک بلڈنگ کا آغاز 22اوراختتام 23جون کو ہوگاجبکہ 29اور30جون کو حصص عام پبلک کیلئے پیش کئے جائیں گے۔ 

کمپنی کی جانب سے 93.8ملین یا 26فیصدحصص کو آئی پی او کے عمل کے ذریعے35روپے فی حصص کی قیمت پرسبسکرپشن کیلئے پیش کیا جائے گا جس کے بعدبک بلڈنگ میں کامیاب بولی دہندگان کو 75فیصد حصص الاٹ کئے جائیں گے جبکہ بقیہ حصص کو عام عوام کیلئے اسٹرائیک پرائس پرسبسکرپشن کیلئے پیش کیا جائے گا۔ بک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بنیاد پر اسٹرائیک پرائس میں 40فیصد(فی حصص 49روپے)تک کا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے کمپنی چارارب ساٹھ کروڑ روپے جمع کرسکتی ہے۔ 

پی اے بی سی نے 2017میں ملک میں مشروبات کیلئے ایلمونیئیم کے کین بنانے والے واحد مقامی ادارے کے طور پر اپنے آپریشنز کاا ٓغاز کیا تھا۔ اس وقت تک پاکستان اور افغانستان میں مشروبات بنانے والے ادارے اپنے مشروبات کیلئے مہنگے درآمدادی کینز پر انحصار کرتے تھے۔اب پی اے بی سی پاکستان اور افغانستان میں پیپسی اور کوکا کولا سمیت تمام بڑے کاربونیٹڈ مشروبات بنانے والے اداروں کو اپنے کینزفراہم کرتا ہے۔سال 2020میں کمپنی نے اپنی کل پیداوار کا35فیصد افغانستان کو برآمد کیا۔ 

فیصل آباد کے اسپیشل اکنامک زون میں 20.9ایکڑ پر قائم سالانہ 700ملین کین پیداواری صلاحیت کے ساتھ پی اے بی سی کو10سال تک ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے۔ اگلے سال جولائی تک کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت کو 36فیصدبڑھاکر سالانہ 950ملین کین تک لیجانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پچھلے 5سالوں میں کمپنی کی آمدنی میں سالانہ 18.7فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا ہے۔ اپنے آپریشن کے تیسرے سال(2020)میں کمپنی کا خالص منافع 2019کے مقابلے میں 314فیصد اضافے کے ساتھ610.7ملین روپے رہا جبکہ 2021میں کمپنی کے خالص منافع میں مزید اضافہ کی توقع کی جارہی ہے۔

یورومونیٹر انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کی سوفٹ ڈرنک مارکیٹ کا سائز سالانہ 3.8ارب لیٹر ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ بڑھتی ہوئی قوتِ خرید،اربنائزیشن اور ساز گار آبادیات کے پس منظر میں اگلے پانچ سالوں میں یہ کھپت سالانہ 7 فیصد کے اضافے سے 5.3ارب لیٹر تک پہنچ جائے گی۔

پی اے بی سی کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ افغانستان ہے کیونکہ وہاں مشروبات کیلئے شیشے تیار کرنے کی مقامی سہولیت میسر نہیں ہے۔ افغانستان میں کوکا کولا اور پیپسی کی فرنچائز سمیت مشروبات کے بوٹلرزکے ساتھ معاہدے کی بدولت کمپنی کے پاس افغان مارکیٹ کا 50فیصد سے زائدحصہ ہے۔

اس کے علاوہ پی اے بی سی نے حال ہی میں مختلف معاہدوں پر دستخط کئے ہیں اور امریکہ میں مشروبات بنانے والے اداروں کو برآمدات کا آغاز کردیا ہے جبکہ کمپنی بنگلہ دیش اور عراق میں بھی مشروبات بنانے والے معروف اداروں کے ساتھ بات چیت کے عمل میں ہے۔

Previous Post Next Post