عالمی جریدے فوربز کے 30 سال سے کم عمر کے 30 باصلاحیت افراد میں 5 پاکستانی شامل، ایک کا تعلق چترال سے ، جو چترال کے لئے باعث فخر ہے

عالمی جریدے فوربز کے 30 سال سے کم عمر کے 30 باصلاحیت افراد میں 5 پاکستانی شامل، ایک کا تعلق چترال سے ، جو چترال کے لئے باعث فخر ہے


کراچی (ٹائمز آف چترال نیوز) عالمی جریدہ فوربز ہر سال دنیا بھر سے 30 سال سے کم عمر کے 30 باصلاحیت افراد کا نام شائع کرتا ہے۔ اس سال بھی 30 نام شائع کئے ہیں جن میں سے 5 پاکستانی شامل ہیں ، پانچ پاکستانیوں میں چترال کی قابل فخر بیٹی کرشمہ بھی شامل ہیں۔ جو چترال کے لئے باعث فخر ہے۔ چترال کی 21 سالہ کرشمہ علی اپنے علاقے کی واحد خاتون فٹ بالرہیں، جومقامی اور انٹرنیشنل کلب لیول پر کھیلتی ہیں۔ کرشمہ علی نے چترال میں خواتین اسپورٹس کلب کی بنیاد بھی رکھی ہے۔ کرشمہ چترال ویمنز فٹ بال کلب کی بانی ہیں اور قومی اور عالمی سطح پرفٹ بال کھیلنے والی چترال سے تعلق رکھنے والی واحد لڑکی ہے۔ کرشمہ نے حال ہیں میں دبئی میں ہونے والے جوبلی گیمز میں پاکستان ویمن ٹیم کی نمائندگی کی، ٹیم کی یہ کسی بین الاقومی ایونٹ میں پہلی شرکت تھی۔ انہیں فوربز کی فہرست میں انٹرٹینمنٹ اور سپورٹس کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔

اس فہرست میں فنونِ لطیفہ، سائنس و ٹیکنالوجی، موسیقی، کھیل، کاروبار اور دیگر زمروں میں کچھ منفرد کرکے دکھانے والے 30 سال سے کم عمر کے افراد کو شامل کیا جاتا ہے۔ فوربز کے مطابق پورے ایشیا سے 2000 نام موصول ہوئے تھے، پرکھنے کے بعد ایک اعلیٰ اختیاراتی جیوری نے فہرست میں سے 30 افراد کا انتخاب کیا ہے۔ پاکستان سے منتخب ہونے والے خواتین و حضرات کا تعلق کھیل ، اسٹارٹ اپ کمپنیوں اور نئے کاروبار سے بھی ہے۔




فوربس کی فہرست میں شامل 27 سالہ پاکستانی احمد رؤف عیسیٰ نے بطور طالب علم 23 سال کی عمرمیں پاکستان کے سب سے بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز میں سے ایک ٹیلی مارٹ کی بنیاد رکھی ۔ ٹیلی مارٹ ای کامرس پلیٹ فارم تیزی سے ترقی کررہا ہے۔

چترال کی 21 سالہ کرشمہ علی اپنے علاقے کی واحد خاتون فٹ بالرہیں، جومقامی اور انٹرنیشنل کلب لیول پر کھیلتی ہیں۔ کرشمہ علی نے چترال میں خواتین اسپورٹس کلب کی بنیاد بھی رکھی ہے۔۔ کرشمہ چترال ویمنز فٹ بال کلب کی بانی ہیں اور قومی اور عالمی سطح پرفٹ بال کھیلنے والی چترال سے تعلق رکھنے والی واحد لڑکی ہے

23 سالہ لیلی قصوری بطور واٹر ایکسپرٹ ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ساتھ آب پاشی اور سیلاب کے موضوع پر ریسرچ کرچکی ہیں۔ لیلیٰ قصوری دنیا کے کئی اداروں کی مشیر بھی ہیں جہاں وہ اپنی فنی مہارت پیش کرتی ہیں۔

29 سالہ زینب بی بی نے 2013ء میں پاکستان سوسائٹی فار گرین انرجی کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے نئے طریقوں پرکام کرتا ہے۔

زین اشرف کی عمر 28 برس ہے اور انہوں نے سود سے پاک مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ زین اشرف کی کمپنی پاکستان میں مسلسل ترقی کررہی ہے۔



Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post