میں اپنے بیٹے کو مدرسہ پڑھنے کے لئے بھیجا، یہ لوگ دھرنے میں لے آئے جب میں لینے آیا تو مجھے دھمکیا دی جارہی ہیں: والد کا واویلا

میں اپنے بیٹے کو مدرسہ پڑھنے کے لئے بھیجا، یہ لوگ دھرنے میں لے آئے جب میں لینے آیا تو مجھے دھمکیا دی جارہی ہیں: والد کا واویلا 




اسلام آباد (ویب ڈیسک) دھرنے کے شرکا سے کچھ روز قبل ایک صحافی نے ایک طالب علم سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کو یعنی مدرسے کے بچوں کو زبردستی یہاں لایا جا رہا ہے۔ تو طالب علم نے جوان میں کہا تھا ’جی ہاں‘ جس پر صحافی اور وہاں موجود لوگ بے ساختہ ہنس پڑے تھے۔ ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔

جے یو آئی ف کے جلسے کے حوالے سے تنقید کی جاتی رہی ہے کہ آزادی مارچ کے لیے مدرسوں کے طالب علموں کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے لیے طالب علموں سے چندہ بھی لیا گیا تھا۔ اسی حوالے سے اب ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک والد کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا مدرسے میں پڑھتا ہے لیکن مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں اسے زبردستی لے کر جایا گیا۔

جب میں مدرسے میں اپنے بیٹے سے ملنے گیا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ تو مولانا کے جلسے میں جا چکا ہے۔ جب میں نے مدرسے کے مولانا سے بات کی کہ میرا بیٹا غائب ہے تو اس نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ طالب علم کے والد کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنے بچے کو مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا ہے تاہم اسے میری اجازت کے بغیر لے کر جایا گیا۔

ان کا مزید کہناتھا کہ اب مجھے اور میرے بچے کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں؟ آخر اس میں ہم دونوں کا کیا قصور ہے۔

بچے کے والد نے مزید کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ مستقبل میں بچے کی پڑھائی پر اثر ہو گا لہذا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔انہوں نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے:






Previous Post Next Post