احساس پروگرام کے تحت سندھ کے 10 اضلاع میں 50 کروڑ روپے مالیت کے بلاسود قرضے تقسیم
کراچی، 30 دسمبر، 2019۔ حکومت پاکستان کے احساس پروگرام کے تحت نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کے ذریعے سندھ کے 10اضلاع میں 50 کروڑ روپے مالیت کے بلاسود قرضے تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر پیر کو منعقدہ تقریب میں سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے بھی غریبوں میں بلاسود قرضوں کے چیک تقسیم کئے۔
احساس پروگرام کے تحت 4 لاکھ 13 ہزار 390 افراد میں 13.8 ارب روپے مالیت کے قرضے تقسیم کئے جاچکے ہیں جن میں 46 فیصد خواتین ہیں۔ صرف سندھ میں 15 ہزار سے زائد افراد میں 50کروڑروپے مالیت کے قرضے فراہم کئے گئے ہیں جن میں 70 فیصد خواتین ہیں۔ اس اقدام کے لئے حکومت پاکستان، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (IFAD) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے وسائل فراہم کئے جارہے ہیں۔
احساس پروگرام کے تحت ملک کے بھر کے 100 اضلاع کے لئے مجموعی طور پر 42.65 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس رقم سے ایک کروڑ 60 لاکھ 28 ہزار افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے جن میں 50 فیصد خواتین کے ساتھ نوجوان، معذور افراد، خواجہ سرا، اقلیت اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اگلے چار سالوں میں 22لاکھ 80ہزار گھرانوں کو 38لاکھ بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے ۔ مجموعی طور پر ایک کروڑ 47لاکھ افراد اس حصے سے مستفید ہوں گے۔ اس پروگرام پر پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) اور اخوت فاﺅنڈیشن کے ذریعے عمل درآمد کیا جارہا ہے ۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا، "پاکستان میں لاکھوں گھرانے انتہائی غربت کا شکار ہیں، وہ زندگی کی بنیادی ضروریات کی بھی رسائی نہیں رکھتے ۔ بلاسود قرضے کے پروگرام سے انہیں اپنا مستقبل بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ ہماری حکومت کی ترجیح ہے کہ پاکستان کے پسماندہ طبقوں کو سہولیات فراہم کریں اور احساس پروگرام کے ذریعے ہمارا عزم ہے کہ لاکھوں افراد کو غربت کے دائرے سے باہر نکالا جائے۔ اس پروگرام سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ یہ معاشی خوشحالی کے لئے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔"
اس تقریب میں پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ بھی موجود تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات سے غریبوں کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی لانے میں مدد ملے گی۔ "معاشرے صرف اسی وقت پھلتے پھولتے ہیں جب وہ باہمی طور پر شراکت داری قائم کرکے ایک دوسرے کی ترقی کے لئے کام کرتے ہیں۔ احساس پروگرام اس نتیجہ خیز شراکت داری کی ایک ایسی ہی مثال ہے جس سے پاکستان کے لوگوں کو بھرپور فائدہ پہنچے گا۔"
پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ کی ہیڈ آف پروگرامز سیمی کمال نے احساس پروگرام کی اہمیت اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، "نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کا عزم ہے کہ ملک کے انتہائی غریب ترین گھرانوں کو بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں اور انکے معاشی حالات میں بہتری لانے کے لئے انہیں اپنا چھوٹا کاروبار قائم کرنے میں مدد کی جائے۔ یہ پی پی اے ایف کا مقصد ہے کہ پسماندہ طبقوں کو سہولت فراہم کی جائے اور انکے روشن مستقبل کے لئے کام کیا جائے۔"
نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کے تین اہم حصے ہیں جو اثاثوں کی فراہمی ، پیشہ ورانہ مہارت و ہنرمندی کی تربیت اور بلاسود قرضوں پر مشتمل ہیں ۔ ہر ماہ 80 ہزار بلاسود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں جن کی زیادہ سے زیادہ حد 75 ہزار روپے ہے۔ اگلے چار سالوں کے دوران 22 لاکھ 80 ہزار گھرانوں کو 38 لاکھ بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔
اس اقدام کا ایک اور اہم حصہ اثاثہ جات کی منتقلی ہے۔ اس حوالے سے 2 لاکھ 25 ہزار اثاثہ جات انتہائی غریب ترین افراد کو فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کام شروع کرسکیں۔ ان اثاثہ جات کی اوسط لاگت 50 ہزار روپے ہوگی۔ اس ضمن میں شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے تاکہ غریبوں کو انکے انتخاب کے مطابق اثاثہ جات حاصل ہوسکیں۔ اثاثے وصول کرنے والے افراد کو زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لئے کاروباری تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ پروگرام کے اس حصے کے تحت اگلے دو سال تک ہر ماہ 9 ہزار اثاثہ جات فراہم کئے جائیں گے۔ اس حصے سے مجموعی طور پر 14 لاکھ 50 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔ بلاسود قرضہ اور اثاثہ جات وصول کرنے والے افراد کو مہارت اور کاروباری ترقی کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ پائیدار انداز سے اپنی آمدن یقینی بناسکیں۔
احساس پروگرام ملک میں غربت کے خاتمے کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول پبلک، پرائیویٹ، سول سوسائٹی، مخیر حضرات اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ایک اجتماعی مقصد یعنی تخفیف غربت کے لئے اشتراک کریں۔ سندھ میں 15 ہزار سے زائد افراد میں 50کروڑروپے مالیت کے قرضے فراہم کئے گئے ہیں جن میں 10ہزار خواتین ہیں۔ اس اقدام کے لئے حکومت پاکستان، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (IFAD) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے وسائل فراہم کئے جارہے ہیں۔
کوئی بھی 18 سال سے لیکر 60 سال کی عمر کا حامل پاکستان میں متعین 100 اضلاع سے یہ قرض حاصل کرسکتا ہے۔ تفصیلی معلومات پاورٹی ایلیوئیشن اور سوشل سیفٹی ڈیویژن کی ویب سائٹ پر حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ اہم کردار ادا کررہا ہے۔ یہ ادارہ مستحقین میں مالی وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنا رہا ہے جس کے نتیجے میں مستحکم اثرات پیدا ہورہے ہیں۔
غریبوں کو وسائل فراہم کرنے والے صف اول کے ادارے کے طور پر پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ ملک میں تخفیف غربت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے جذبے سے کام کرکے غربت سے متعلق کثیر الجہتی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ سماجی و معاشی تبدیلی لانے کے لئے کوشاں ہے۔ پی پی اے ایف پاکستان بھر میں رسائی رکھنے کے ساتھ ملک بھر کے 137اضلاع میں موجود ہے جبکہ اسکی 130 تنظیموں کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد گاو ¿ں /آبادکاریوں کی شراکت داری ہے جبکہ ان کے ہمراہ ایک لاکھ 33ہزار سے زائد کمیونٹی ادارے اور نچلی سطح پر چار لاکھ 40 ہزار کریڈٹ/کامن انٹرسٹ گروپس ہیں۔

Post a Comment
Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.