کورونا وائرس کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے نرس کو بندوق کے زور پر ہراساں کیا گیا، اسسٹنٹ کمشنر لوئر چترال نے تمام صحت کے عملے کے سامنے انہیں بندوق کے زور پر ہراساں کیا

کورونا وائرس کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے نرس کو بندوق کے زور پر ہراساں کیا گیا، اسسٹنٹ کمشنر لوئر چترال نے تمام صحت کے عملے کے سامنے انہیں بندوق کے زور پر ہراساں کیا

چترال (نمائندہ ٹائمزآف چترال 22 اپریل 2020) سوشل میڈیا پر چترال میں کورونا وائرس کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے نرس تنویر کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر لوئر چترال نے تمام صحت کے عملے کے سامنے انہیں بندوق کے زور پر ہراساں کیا اور ان کی تضحیک کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے گروپ کے ساتھ شفٹ یا جا رہا تھا جو سسپیکٹڈ تھے اور انہیں گزشتہ 6 روز سے پوزیٹیو کیسز کے ساتھ قرنطینہ رکھا گیا تھا۔ جس پر انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انہیں اس گروپ کے ساتھ شفٹ نہ کیا جائے، کیونکہ یا تو انہیں مجھ سے یا پھر مجھے ان کے وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جس پر انہیں اسسٹنٹ کمشنر نے گالیاں دیں اور بندوق کے زور پر زبردستی ایمبولینس میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ 

تنویر آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی سے نرسنگ کے شعبے  کے گریجویٹ ہیں اور آغا خان یونیورسٹی سے ہی نرسنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد دسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اپر دیر میں 16 گریڈ کے نرسنگ آفیسر بھرتی ہوئے ہیں۔ 

گزشتہ روز کی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ہمارے نمائندہ خصوصی نے سے بات کی۔ تنویر نے ہائی ایشیا ہیرالڈ کے نمائندے سے خصوصی گفگتو میں کہا کہ 16 اپریل کو چھٹی ہونے کے بعد باقاعدہ منظوری کے بعد اپر دیر سے چترال کی طرف سفر کر رہے تھے۔ تمام چیک پوسٹ سے تمام لاک ڈاوں کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ مقامی ایس ایچ او کے انہیں بتایا کہ انہیں پولیس کنٹرول سینٹر سے آپ کی شکایت موصول ہوئے ہے تو براہ مہربانی آپ ہمارے ساتھ تعاون کر کے واپس چلے جائیں۔ جس پر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں، میں نے پولیس کنٹرول سینٹر پر موجود افراد سے فون پر بات بھی کی اور انہیں آگاہ کیا کہ میرے پاس اجازت نامہ ہے اور میں خود ایک سٹاف نرس ہوں اور حالات کی نزاکت سے آگاہ ہوں۔ جس پر انہیوں نے مجھ سے تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ آپ ہمارے پاس آجائیں۔ میں قانون کے احترام میں ان کے پاس گیا اور وہاں پر میری ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے بات ہوئی، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے نوٹس میں بھی یہ بات لائی گئی اور مجھے رضاکارانہ طور پر سیلف قرنطینہ کرنے کی ہدایت کی گئی، جس کی میں نے پاسداری کی اور ان کے کہنے پر اپنا خون کا سیمپل ٹیسٹ کرانے کے لئے بھی رضامندی ظاہر کی، گو کہ میرے یہاں کے ہیلتھ سیٹ اپ کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی تھیں کیونکہ یہاں آپ کو مزید صحت کے مسائل کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، مگر میں نے تمام تر تحفظات کے باوجود اس تمام عمل پر رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا۔ 
ٹیسٹ سیمپل کے جانے کے دو دن بعد جیسا کہ میرا خیال تھا ایسا ہی ہوا، اور میرا رزلٹ نہ تو مثبت آیا نہ منفی (اسے میڈیکل کے زبان میں ان کنکلوسیو کہا جاتا ہے)۔ حیران کن بات تو یہ تھی کہ ایک طرف مجھے ان کنکلوسیو ٹیسٹ رزلٹ دیا گیا اور دوسری طرف ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی نا اہلی کے سبب یہ خبر مقامی میڈیا پر پھیلائی گئی کہ اس نرس کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ پوزیٹیو آیا ہے حالانکہ میرا ٹیسٹ اِن کنکلوسیو آیا تھا اور کل میں نے دوسرا سیمپل دیا ہے۔  اس کے علاوہ جھوٹی خبریں پھیلانے کے بعد میرے خاندان والوں کو بھی فون کئے گئے اور انہیں بھی خوفزدہ کیا گیا۔ 

اس سارے عمل کو میں شعبہ صحت کی ناقابلیت کہہ سکتا ہوں اور یہ تقریبا تمام ملک میں لگ بھگ ایک جیسا ہی ہے مگر کل جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے اس نے مجھے انتہائی دکھی کر دیا ہے اور آپ کے توسط سے میں یہ واقعہ لوگوں اور حلقہ اربابِ اختیار تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ کل مجھے دوبارہ سیمپل دینے کے لئے ڈی ایچ کیو ہسپتال لے جایا گیا تھا، جب سیمپل دینے کے بعد میں مجھے 6 گھنٹے تک کھلی فضا میں باقی تمام لوگوں کے ساتھ کھڑا رکھا گیا جس میں کوئی سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال نہیں رکھا گیا، ہم نے خود ہی سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھا، میں نے باقی لوگوں کو بھی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر شہزاد وہاں آئے، انہوں نے انہیں کورونا کے سسپیکٹد کیسز (جن کو پچھلے 6 دنوں سے پوزیٹیو کیسز کے ساتھ ایک ساتھ رکھا گیا تھا) کے ساتھ مجھے زبردستی ایمبولینس میں دھکیلنے کی کوشش کی، منع کرنے پر مجھے بندوق کے زور پر مجھے دھکے دے کر ایمبولینس میں بٹھانے کی کوشش کی۔ مجھ سے اسسٹنٹ کمشنر نے میرا موبائل چھین لیا، میرا ڈیپارٹمنٹ کا این او سی چھین لیا اور پولیس نے مجھے گن پوائنٹ پر 6 منٹ تک کے رستے پر لوگوں کے سامنے مجھے پیدل لے جایا گیا۔ اللہ کا کرم یہ ہوا کہ ڈی ایچ او چترال کی موقع پر آمد ہوئی، انہوں نے مداخلت کی تو میرا موبائل بھی واپس کیا گیا اور مجھے الگ گاڑی میں بھیجا گیا۔



Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post