یارخون اناوچ پل جیب حادثہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے بونی میں مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا

یارخون اناوچ پل جیب حادثہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ    یکجہتی کے لئے بونی میں مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا




اپر چترال ( نمائندہ ٹائمزآف چترال )   چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ جوکہ چترال سے تعلق رکھنے والے خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار لوگوں کی آن لائن واٹسپ گروپ ہے۔جو گزاشتہ سال کرونا وائریس کی پھیلاو کی وجہ ملک کے مختلف شہروں میں پھسے ہوئے اور پریشان حال لوگوں کی مدد کے لیے بنایا گیا۔یہ گروپ اپنی وجود میں انے سے آج تک نہ صرف کرونا سے متاثرہ لوگوں کی مدد بھر پور طریقے سے کی بلکہ کرونا کی زور ٹوٹنے کے بعد بھی اپنی بے مثال خدمت کو جاری رکھ کر زندگی کے ہر شعبے میں اپنی بہتریں خدمات پیش کرتا ایا ہے۔ ابھی تک یہ گروپ سینکڑوں بے یار و مدد گار لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے علاوہ چترال اور گلگت کے مستحق خاندانوں میں راشن بھی تقسیم کر چکا ہے اسی طرح مریضوں کے علاج معالجے اور متاثر خاندانوں کی بحالی میں اپنا جاندار کردار ادا کر رہاہے۔ یہ گروپ چترال اور گلگت میں اپنی مقدور کے مطابق عملی خدمات میں مصروف ہے۔اور ہر دو علاقے کے درد دل اور مخلص لوگ اس گروپ میں شامل ہیں۔

آ ج بروز اتور بعملِ گیارہ بجے چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کی جانب سے یارخون (اناوچ) جیب ایکسیڈنٹ کے متاثرین کے ساتھ ہمدری اور نفسیاتی بحالی کے حوالے لائحہ عمل مرتب کرنے کے حوالے سے ایک پروگرام اپر چترال بونی میں منعقد ہوا جس میں چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے معزز اراکین کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کے لواحقین نے شرکت کی۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک اور مرحومین کی معفرت کے دعا کے ساتھ کیا گیا۔مولانا خلیق الزمان خطیب شاہی مسجید چترال نے تلاوتِ کلام پاک اور دعائے معفرت کی سعادت حاصل کی۔ ایس۔پی انو سٹگیشن خالد خان،ڈاکٹر عبد لکریم ایس۔ڈی۔پی۔او مستوج محی الدین،علاو الدین عرفیؔ، اور ذاکر محمد زخمیؔ نے اس موقع پر اظہارِ خیال کئے۔ایس۔پی انوسٹگیشن خالد خان نے مذکورہ حادثے کے سبب انسانی جانوں کے ضیائع پر اظہارِ افسوس کیااور اسے دلخراش واقعہ قراردی۔ اور اپنی دکھی بہین بھائیوں کے ساتھ دلی ہمدردی پر چترال کے قابلِ فخر فرزند محترم محمد ضیا سالکؔکے خدمات کی اعتراف کرتے ہوئے  انہیں خراجِ تحسین پیش کی اور ان کا دلی ہمدردی اور پیغام حاضرین تک پہنچایا۔

 یاد رہے محمد ضیا سالکؔ محترم رحمت عزیز سالکؔ کا فرزند ارجمند ہیں ان کا تعلق چترال کے گاوں لوٹ اویر سے ہے رحمت عزیز سالکؔ مرحوم برطانیہ میں رہ کر عرصہ دراز سے انسانیت کے خدمت کے لیے خود کو وقف کر رکھا تھا ان کے رخلت کے بعد یہ عظیم خدمت کا بیڑہ محمد ضیا سالکؔ بطریقِ احسن اٹھا رکھے ہیں۔ آپ نہ صرف چترال بلکہ دنیا کے کم و بیش چالیس ممالک میں انسانیت کے عملی خدمت میں مصروف ہیں۔ اسی طرح انفارمیشن گروپ کی تواسط سے سانحہ یارخون کے متاثرین کے ساتھ عملی ہمدردی اور مالی اعانت بھی ضیا سالک ہی نے کی تھی۔ اس پر ہیلپنگ گروپ کے جملہ ممبران اپ کے مشکو رہیں۔تقریب میں ذاکر زخمیؔ انفارمیشن گروپ کے اعراض و مقاصد اور مختصر کارکردگی پیش کی۔ اور چترال ار گلگت کے مخیر اور مخلص لوگوں کو ایک گروپ میں جمع کرنے پرمحمد علی مجاہدؔ اور فضل الرحمٰن شاہدؔ کے کاوشوں کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کی۔خطیب شاہی مسجید چترال محترم خلیق الزمان نے متاثرہ خاندانوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جب سے یہ دلخراش واقعہ پیش ایا ہے۔ ہم سب ہر صورت اپ سے رابطے میں رہے ہیں۔ اور ائیندہ بھی ہر طرح کے ہمدردی۔آ پ سے رہیگی۔ اپ نے یقین دلایا کہ آپ اکیلے نہیں اگر چہ مرحومیں کا نعیم البدل تو ہمارے پاس نہیں ہوتا تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر وہ کام ہم کرینگے جس سے اپ کو ذہنی اطمینان حاصل ہوا اپ نے اعلان کیا کہ مرحومین کے بچے،بچیوں کو اگر سبق کے لیے کوئی مسلہ ہو تو چھ سال سے دس سال تک کے بچوں،بچیوں کو مفت تعلیم دینے کی زمہ داری ہم پر ہے۔انہیں ہر وہ سہولیات فراہم کرینگے جو انہیں درکار گی ہواور گریجویشن تک ان کو مفت تعلیم دی جائیگی۔ 

متاثرین اس موقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چترال انفارمشین اینڈ ہیلپنگ گروپ کے خدمات پر تمام ممبراں کو خراج، تحسین پیش کیے۔اوردیار غیر میں رہتے ہوئے چترال کے لیے خدمات پر محمد ضیا سالکؔ کو سلام پیش کی۔ پروگرام کے آخر میں  متاثرین کے بحالی کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا گیا  اور متاثرین میں کیشن تقسیم کی گئی نیز دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام اختیتام پذیر ہوا۔اس تقریب میں انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے فعال ممبر شہزاد احمد شہزادؔ کے علاوہ،ایس۔ڈی۔پی۔او ہیڈ کوارٹراحمد عسی، چرمین چیپس رحمت علی جوہرؔاور نوجوان سوشل ایکٹیویسٹ افگن رضاؔ بھی موجود تھے۔ ایس۔ڈی۔پی۔او مستوج محترم محی الدین اس تقریب کی میزبانی کر رہے تھے۔

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post