فیس بک نے پاکستان میں غلط و گمراہ کن معلومات کا پھیلاوٴ روکنے کی نئی سہولت متعارف کرادی

فیس بک نے پاکستان میں غلط و گمراہ کن معلومات کا پھیلاوٴ روکنے کی نئی سہولت متعارف کرادی

اسلام آباد (پریس ریلیز ۔ 03 ستمبر2020ء) فیس بک نے پاکستان میں غلط معلومات کے پھیلاوٴ کی روک تھام اور اسکا پلیٹ فارم استعمال کرنے والے صارفین کو اضافی پس منظر کے ہمراہ ایک سال سے زائد پرانی تصاویر شیئر کرنے والی ممکنہ نقصان دہ اور گمراہ کن معلومات پر مبنی پوسٹس کو محدود کرنے کے لئے نئی سہولت متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 



فیس بک کمپنی کے ترجمان نے بتایا، "ہم لوگوں کو گمراہ کن مواد کی پہچان کے لئے بااختیار بنا رہے ہیں اور درست معلومات کے تعین کے لئے انہیں ضروری پس منظر فراہم کریں، اگر وہ ایسی پوسٹ شیئر کرنے کے خواہاں ہوں۔"

اس نئی سہولت کے تحت پاکستان میں صارفین کو اس وقت ایک پیغام ظاہر ہوگا ،جب وہ مخصوص اقسام کی تصاویر بشمول ایک سال پرانے فوٹوز شیئر کرنے کی کوشش کریں گے اور جو فیس بک کی پرتشدد مواد سے متعلق گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی سے قریب ہوں گی۔

صارفین کو وقتا فوقتا انتباہی پیغام بھی ملیں گے کہ جو تصویر وہ شیئر کرنے والے ہیں وہ نقصان دہ یا گمراہ کن مواد پر مبنی ہے جس کی نشاندہی مصنوعی ذہانت اور انسانی جائزوں کے امتزاج سے کی جائے گی۔

دنیا بھر میں تصاویر اور ویڈیوزکی بنیاد پر غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے اور اسکے حل کے لئے فیس بک کی ٹیمیں توجہ کے ساتھ کام کررہی ہیں۔

ایسی تصاویر جن کا غیرمتعلقہ پس منظر ہے ، وہاں فیس بک کی نئی سہولت غلط معلومات کو روکنے کے لئے تین جہتی طریقے ہٹانے، محدود کرنے، آگہی پر کاربند ہے۔

فیس بک ایسا مواد ہٹا دیتا ہے جو اسکے کمیونٹی اسٹینڈرڈز کے خلاف ہو اور یہ غلط معلومات کے پھیلاوٴ کو بھی کم کرتا ہے جب اسے خود مختار اداروں کی جانب سے اسے غلط قرار دیا جاتا ہے اور اس طرح کی خبروں کا 80 فیصد تک پھیلاوٴ کم ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں فیس بک خبروں کی درستی جانچنے کے لئے پوئنٹرز کے سند یافتہ ادارے اے ایف پی کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس کے نزدیک لوگوں کو زیادہ باخبر بنانا بھی اہم ہے اور پاکستان میں فیس بک ایسی کمیونٹی سامنے لانے پر بھی توجہ دیتا ہے جو غلط معلومات کی پہچان میں مہارت رکھتی ہو اور خبروں کے بااعتماد ذرائع سے بھی واقف ہو۔



Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post